ریاض میں سعودی ترکی انویسٹمنٹ فورم کی سرگرمیوں کا آج آغاز

سعودی ولی عہد اور ترک صدر کے درمیان سربراہ ملاقات ریاض میں ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

آج بروز منگل ریاض میں سعودی - ترکیہ انویسٹمنٹ فورم کی سرگرمیوں کا آغاز ہو گیا ہے، جس میں دونوں ممالک کے حکام، نجی شعبے کے قائدین اور کمپنیوں نے شرکت کی۔ اس کا مقصد مختلف شعبوں میں اقتصادی اور سرمایہ کاری کے تعاون کو فروغ دینا، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کرنا اور سعودی عرب میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنا ہے۔

فورم کی کارروائی میں دونوں ممالک میں سرمایہ کاری سے متعلق پریزنٹیشنز اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے حوالے سے مذاکراتی سیشنز شامل ہیں۔

سعودی کیپٹل مارکیٹ اتھارٹی اس سال غیر ملکی ملکیت کی حدود پر نظرثانی اور اس میں اضافے کا ارادہ رکھتی ہے۔

فورم کے دوران دونوں جانب سے نجی شعبے کے نمائندوں کے درمیان دوطرفہ ملاقاتیں بھی ہوں گی تاکہ تعاون اور شراکت داری کے مواقع پر بات چیت کی جا سکے اور دونوں ممالک میں دستیاب سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان بھی دو روزہ سرکاری دورے پر آج ریاض پہنچ گئے۔ ریاض کے قصر الیمامہ میں صدر اردوان اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان سربراہی ملاقات ہوگی۔

توقع ہے کہ اس ملاقات میں خطے کی صورت حال، خصوصاً ایران سے متعلق امور، کشیدگی میں کمی کی دعوت اور سفارتی حل کو ترجیح دینے پر بات ہوگی۔ اس کے علاوہ یمن کی صورتحال اور حالیہ پیش رفت، جس میں ترکیہ نے جنوبی مذاکرات کی سعودی عرب کی جانب سے میزبانی کی حمایت کی ہے اور شام کی صورتحال سمیت اس کی وحدت و آزادی کے لیے دونوں ممالک کی حمایت پر بھی گفتگو کی جائے گی۔

سربراہی ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کا بھی جائزہ لیا جائے گا اور اس دورے کے موقع پر سعودی - ترکی انویسٹمنٹ فورم کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

جنوری سے ستمبر 2025 کے دوران سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تجارتی تبادلہ 6.3 ارب ڈالر رہا۔

سعودی عرب نے اپنی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے لیے 390 ترک کمپنیوں کو راغب کیا ہے، جبکہ بزنس فورم کے دوران سعودی عرب اور ترکیہ نے سرمایہ کاری کے مختلف شعبوں میں 10 معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

واضح رہے کہ ریاض اور انقرہ نے 2016 میں سعودی - ترکی رابطہ کونسل کے قیام کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد سیاسی، اقتصادی، دفاعی اور سکیورٹی کے شعبوں میں دونوں ممالک کے تعلقات کو فروغ دینا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں