سیف الاسلام کے قتل کے بعد ... معمر قذافی کے گھرانے میں کون باقی رہ گیا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سیف الاسلام قذافی کے قتل نے ایک بار پھر لیبیا کے سابق سربراہ کرنل معمر قذافی کے خاندان کے معاملے کو سرخیوں میں لا کھڑا کیا ہے، یہ خاندان 2011 میں نظامِ حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی بکھر گیا تھا۔ اقتدار میں اہم کردار ادا کرنے والا یہ خاندان لیبیا میں اب سب سے زیادہ متنازع موضوعات میں سے ایک بن چکا ہے۔

انقلاب کے بعد سیف الاسلام قذافی خاندان کی سب سے متنازع شخصیت کے طور پر ابھرے، کیونکہ انہیں اپنے والد کا ممکنہ جانشین اور سابقہ نظام کے حامیوں کی مدد سے صدارتی انتخابات کے لیے نمایاں ترین امیدواروں میں سے ایک سمجھا جاتا تھا۔

تاہم یہ سفر اس وقت اچانک ختم ہو گیا جب گزشتہ روز منگل کی شام زنتان میں نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے ان کے گھر پر حملے اور ان کے قتل کا اعلان سامنے آیا۔ اس طرح سیف الاسلام بھی اپنے ان تین بھائیوں (معتصم باللہ، سیف العرب اور خمیس) سے جا ملے جو 2011 کے انقلاب کے دوران مارے گئے تھے، جبکہ خاندان کے باقی افراد ملک سے باہر منتشر حالت میں ہیں۔

معمر قذافی کی پہلی شادی سے ان کے اکلوتے بیٹے محمد نے 2011 میں پڑوسی ملک الجزائر میں پناہ لی تھی، جس کے بعد انہیں اپنی بہن عائشہ کے ہمراہ سلطنتِ عمان میں پناہ مل گئی۔

جہاں تک ہنیبال کا تعلق ہے، جنہیں لبنانی عدلیہ نے شیعہ عالم دین موسیٰ الصدر اور ان کے ساتھیوں کی لیبیا میں گمشدگی سے متعلق معلومات چھپانے کے الزام میں 10 سال قید رکھنے کے بعد حال ہی میں رہا کیا ہے، وہ فی الوقت کسی نامعلوم مقام پر مقیم ہیں۔
دوسری جانب الساعدی قذافی کے بارے میں غالب امکان یہی ہے کہ وہ ترکیہ میں موجود ہیں۔ انہیں ستمبر 2021 میں لیبیائی حکام نے دانستہ قتل کے الزام میں تقریباً 7 سال قید کاٹنے کے بعد رہا کیا تھا۔

سیف الاسلام قذافی کا قتل ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب لیبیا کے عوام دو ہفتوں بعد فروری کے انقلاب کی 15 ویں سالگرہ منانے کی تیاریاں کر رہے ہیں، جس نے معمر قذافی کے چار دہائیوں پر محیط اقتدار کا خاتمہ کیا تھا۔ تاہم اس دورِ اقتدار کی باقیات آج بھی لیبیا کے سیاسی منظر نامے پر اپنے اثرات ڈال رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں