اسرائیلی فوج کا لبنان میں حزب اللہ کے اسلحہ خانوں پر حملہ

اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی اور شمالی لبنان میں اہداف پر 10 سے زیادہ فضائی حملے کیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے لبنان کے کئی علاقوں میں حزب اللہ کے اسلحہ خانوں پر حملہ کیا ہے۔ لبنانی نیوز ویب سائٹ "لبنان 24" کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے جمعرات کو جنوبی اور شمالی لبنان میں زمینی اہداف پر 10 سے زیادہ فضائی حملے کیے۔

روسی ایجنسی "تاس" کے حوالے سے بتایا گیا کہ زیادہ تر حملوں میں جنوبی لبنان کے ضلع جزین میں واقع محمودیہ کے علاقے کو نشانہ بنایا گیا جہاں حزب اللہ کی فوجی تنصیبات موجود ہیں۔ اسرائیل نے شمالی لبنان کے علاقے ہرمل میں حزب اللہ کے تربیتی اڈوں اور اسلحہ کے گوداموں پر بھی بمباری کی۔ اس بمباری میں جانی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

لبنانی وزارت داخلہ کے مطابق رواں برس کے آغاز سے اب تک لبنان پر اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 29 ہو گئی ہے۔ نومبر 2024 میں حزب اللہ کے ساتھ ایک سال سے زیادہ جاری رہنے والی جنگ کے بعد جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے باوجود اسرائیل لبنان پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیل نے جنوبی لبنان کی پانچ سٹریٹجک پہاڑیوں پر اپنی افواج برقرار رکھی ہوئی ہیں حالانکہ معاہدے میں مکمل انخلاء کی شرط رکھی گئی تھی۔

اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس کے حملے حزب اللہ کے ارکان، تنصیبات اور اسلحہ خانوں کو نشانہ بناتے ہیں اور وہ جنگ کے بعد اسے اپنی صلاحیتیں بحال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ لبنانی حکومت نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ لبنانی فوج نے جنوری کے شروع میں اس منصوبے کے پہلے مرحلے کی تکمیل کا اعلان کیا جس میں دریائے لیطانی کا جنوبی علاقہ شامل تھا۔ اسرائیل نے اس قدم پر شک کا اظہار کرتے ہوئے اسے ناکافی قرار دیا۔

لبنانی فوج کا منصوبہ 5 مراحل پر مشتمل ہے۔ دوسرے مرحلے میں دریائے لیطانی کے شمال سے دریائے اولی تک کا علاقہ شامل ہے جو صیدا کے شمال میں گرتا ہے۔ یہ علاقہ سرحد سے تقریباً 60 کلومیٹر اور بیروت سے تقریباً 40 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں