آنکھ میں موجود بیکٹیریا الزائمر کی ابتدائی علامت ہو سکتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

نئی تحقیق نے جلد تشخیص کی امید جگا دی ہے۔ایک اہم سائنسی پیش رفت میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ آنکھ کی شبکیہ (ریٹینا آنکھ کے اندر ایک باریک پردہ ) میں پائے جانے والے ایک عام بیکٹیریا کا تعلق دماغی کمزوری یعنی الزائمر کے مرض سے ہو سکتا ہے۔

اس دریافت سے یہ خیال مضبوط ہوا ہے کہ آنکھ دماغی بیماریوں کی ابتدائی نشاندہی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

یہ تحقیق امریکا کے معروف طبی مرکز سیدارز-سینائی کے سائنس دانوں نے کی، جس میں آنکھ کے پچھلے حصے میں موجود اعصابی بافتوں میں کلیمائڈیا نمونیا (Chlamydia pneumoniae) نامی بیکٹیریا پایا گیا۔ یہ بیکٹیریا عام طور پر سانس کی نالی کے انفیکشن سے منسلک سمجھا جاتا ہے، تاہم الزائمر کے مریضوں میں اس کی مقدار زیادہ دیکھی گئی۔

ماہرین اس سے قبل بھی الزائمر کے مریضوں کے دماغ میں اس بیکٹیریا کی موجودگی کی نشاندہی کر چکے تھے، لیکن شبکیہ میں اس کا ملنا اس لیے اہم ہے کیونکہ شبکیہ دراصل مرکزی اعصابی نظام کا ہی حصہ ہوتی ہے۔

تحقیق میں شامل ماہرِ اعصابیات مایا کورونیو-ہاماوی کے مطابق آنکھ اس بات کی عکاس ہو سکتی ہے کہ دماغ میں کیا ہو رہا ہے لپاور شبکیہ میں دیرینہ بیکٹیریائی انفیکشن الزائمر سے جڑی بیماری تبدیلیوں کی علامت ہو سکتا ہے۔

تحقیقی ٹیم نے 104 افراد کے انتقال کے بعد آنکھ اور دماغ کے نمونوں کا تجزیہ کیا۔ ان میں کچھ الزائمر کے مریض تھے، کچھ معمولی ذہنی کمزوری کا شکار تھے جبکہ کچھ مکمل طور پر صحت مند تھے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد میں آنکھ اور دماغ میں اس بیکٹیریا کی مقدار زیادہ تھی، ان میں ذہنی زوال بھی زیادہ شدید تھا۔ مزید یہ کہ جن افراد میں الزائمر سے جڑی جینیاتی تبدیلیاں موجود تھیں، ان میں بھی اس بیکٹیریا کی سطح بلند پائی گئی۔

بیکٹیریا کیسے نقصان پہنچاتا ہے؟

لیبارٹری تجربات اور جانوروں پر کی گئی تحقیق سے پتا چلا کہ یہ بیکٹیریا دماغ میں سوزش کو بڑھاتا ہے، اعصابی خلیات کے نقصان کو تیز کرتا ہے اور بیٹا امائلائیڈ نامی پروٹین کی مقدار میں اضافہ کرتا ہے، جو الزائمر میں دماغی تختیاں بننے کا سبب بنتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیکٹیریا ممکنہ طور پر بیماری کی براہِ راست وجہ نہیں، لیکن یہ ایک ایسا عنصر ہو سکتا ہے جو دماغ میں سوزش اور تنزلی کے عمل کو تیز کر دیتا ہے۔

اگرچہ اس تحقیق میں آنکھ کے ذریعے الزائمر کی براہِ راست تشخیص کا عملی طریقہ پیش نہیں کیا گیا، تاہم نتائج اس سمت میں امید افزا ہیں کہ مستقبل میں شبکیہ کے غیر جراحی معائنے کے ذریعے الزائمر اور ڈیمنشیا کی ابتدائی تشخیص ممکن ہو سکے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں