ایران نے امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے ممکنہ حملوں کے خلاف اپنی انتباہی مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔ یہ انتباہات ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب گذشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کی فضا برقرار ہے۔
ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل رضا طلائی نیک نے پیر کے روز اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ایرانی مسلح افواج دشمنوں کی جانب سے کسی بھی ممکنہ جارحیت یا حساب کتاب کی غلطی سے نمٹنے کے لیے انتہائی اعلیٰ درجے کی تیاری کی حالت میں ہیں۔
دفاعی صلاحیتیں
ہلال احمر سوسائٹی کے ریلیف اینڈ ریسکیو آپریشنز میں ڈرون طیاروں کے بیڑے کی شمولیت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت اور عوام، مسلح افواج کی دفاعی تیاریوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم کسی صورت اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ ملک کی زندگی کا پہیہ یا ترقی کا سفر رک جائے۔ انہوں نے مزید زور دیا کہ دفاعی صلاحیتوں کی مضبوطی کے ساتھ ساتھ قومی ترقی کا عمل مزید تیز رفتاری سے جاری رہے گا۔
سفارت کاری اور دفاع
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قاليباف نے واضح کیا ہے کہ سفارت کاری اور دفاع ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ آج پارلیمنٹ کے ایک غیر اعلانیہ اجلاس کے دوران انہوں نے بتایا کہ اراکینِ پارلیمنٹ نے سفارتی اور دفاعی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔
گذشتہ چند دنوں کے دوران متعدد ایرانی عسکری اور سیاسی قائدین تسلسل کے ساتھ اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ایران کسی بھی امریکی یا قابض اسرائیلی حملے کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جنگ کے شعلے پوری خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیل کی جانب سے امریکی انتظامیہ پر مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ جوہری مذاکرات کا دائرہ کار وسیع کرے تاکہ اس میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں تہران کے اتحادیوں کو بھی شامل کیا جا سکے۔
ایران نے اس حوالے سے بارہا واضع کیا ہے کہ اس کے بیلسٹک میزائل اور دفاعی ذرائع ریڈ لائن کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کے روز اپنے بیان میں کہا کہ میزائل پروگرام جس پر امریکہ مذاکرات کرنا چاہتا ہے، کبھی بھی ایجنڈے کا حصہ نہیں رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ یہ طے کرے کہ ایران کے پاس کیا ہونا چاہیے اور کیا نہیں۔