اقوام متحدہ کی عبوری فوج نے سال 2027 کے وسط میں اپنے زیادہ تر فوجیوں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات ترجمان نے منگل کے روز بتاتے ہوئے کہا عبوری فوجی دستوں کی یہ واپسی تعیناتی کے مینڈیٹ کی مدت ختم ہونے کی وجہ سے ہوگی۔
اقوام متحدہ کا یہ فوجی ادارہ 'یونیفل' کے نام سے لبنان اور اسرائیل کی درمیانی سرحد پر کئی دہائیوں سے ایک بفر زون کے طور پر کام کر رہا ہے۔ ان دنوں میں یہ فوجی دستے لبنانی فوج کو حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے سلسلے میں مدد دے رہے ہیں اور لبنان کی سرحد کے اندر حزب اللہ کے موجود مراکز اور ڈھانچوں کو ختم کرنے کا لبنانی فوج کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
یاد رہے لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدہ 27 نومبر 2024 سے نافذ العمل ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج کی بمباری کا سلسلہ اب بھی جنوبی لبنان سمیت مختلف لبنانی علاقوں میں وقفے وقفے سے جاری رہتا ہے۔
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ یہ حملے حزب اللہ کے ٹھکانوں کے خاتمے کے لیے کرتی ہے۔
اقوام متحدہ کے ان امن دستوں کو لبنان اور اسرائیلی سرحد سے واپس بلانے کے لیے پچھلے سال امریکہ و اسرائیل نے سلامتی کونسل پر دباؤ ڈال کر اس سے یہ فیصلہ کرایا تھا کہ 'یونیفل' کو وہاں سے نکالا جائے۔ کیونکہ 31 دسمبر 2026 کو 'یونیفل' کا مینڈیٹ ختم ہو رہا ہے۔
'یونیفل' کے ترجمان نے کہا کہ 'یونیفل' نے علاقے سے نکلنے کی تیاری شروع کر دی ہے اور سال 2027 کے وسط تک تمام یونیفارم والے اہلکار علاقہ خالی کرنا شروع کریں گے جو سال کے آخر تک مکمل ہو جائے گا۔
ترجمان نے کہا اس سال 31 دسمبر کو ہماری مدت ختم ہو جائے گی اور ہم اپنے آلات اقوام متحدہ کو واپس منتقل کریں گے اور سرحد پر موجود اپنی پوزیشنیں لبنانی فوج کے حوالے کر دیں گے۔
اس انخلاء کے دورانیے میں 'یونیفل' کے اہلکار صرف محدود ذمہ داریاں ادا کریں گے۔ جن میں اقوام متحدہ کے کارکنوں کی حفاظت کی ذمہ داری بھی شامل ہوگی۔ نیز اپنی واپسی کے عمل کی نگرانی کریں گے تاکہ محفوظ طریقے سے اپنے اہلکاروں کا انخلاء مکمل کر سکیں۔
خیال رہے 'یونیفل' کا ادارہ 2006 کے اواخر سے اسرائیل اور لبنانی سرحد پر گشت کا کام کر رہا ہے۔ تاہم اس دوران اسے کئی بار اسرائیلی فائرنگ کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے جس کو 'یونیفل' نے بار بار رپورٹ کیا ہے۔
ترجمان نے کہا جنوبی لبنان سے اس نے اپنے اہلکاروں کی تعداد حالیہ مہینوں میں کم از کم 2000 کم کر دی ہے۔ جبکہ اگلے مئی تک 200 مزید واپس بلا لیے جائیں گے۔ اب اس کے اہلکاروں کی کل تعداد جو 48 ملکوں سے تعلق رکھتی ہے 7500 ہے جو لبنان میں خدمات انجام دے رہی ہے۔
ترجمان نے یہ بھی کہا اہلکاروں کی تعداد میں کمی کی بڑی وجہ اقوام متحدہ کے مالی وسائل میں واضح کمی ہو جانا ہے۔
لبنانی حکام چاہتے ہیں کہ بین الاقوامی امن دستوں کی لبنان اسرائیل سرحد پر موجودگی برقرار رہے۔ خواہ اس کے لیے تعداد کم ہو۔ لبنانی حکام نے 'یونیفل' کے انخلاء کے بعد بھی مغربی ملکوں کو اپنے اہلکار سرحد پر تعینات رکھنے کے لیے رابطے کیے ہیں۔
فرانس کے وزیر خارجہ جین نوئیل بیرٹ نے اسی مہینے بیروت میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'یونیفل' کے جانے کے بعد لبنان کی فوج کو اس کی جگہ لینی چاہیے۔
اٹلی نے اشارہ دیا ہے کہ 'یونیفل' کی فوج کے جانے کے بعد بھی اٹلی کے فوجی اہلکار لبنانی سرحد پر موجود رہیں گے۔
-
لبنان کی الجماعت الاسلامیہ کا رکن گرفتار، تفتیش کے لیے اسرائیل منتقل
اسرائیل نے ہدفی کارروائی میں گرفتار کیا
مشرق وسطی -
حزب اللہ کی سرنگوں کا خاتمہ لبنان کے استحکام کے لیے اہم قدم ہے:سینٹ کام
امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) نے لبنانی فوج کی جانب سے گذشتہ دو ماہ کے دوران دوسری ...
مشرق وسطی -
اسرائیل ہماری خود مختاری کو نشانہ بنا رہا ہے : لبنانی وزیر برائے مہاجرین
مہاجرین کے امور سے متعلق لبنان کے وزیر کمال شحادہ نے کہا ہے کہ اسرائیل لبنانی خود ...
بين الاقوامى