سکیورٹی اور استحکام کو سہارا دینے کے لیے مصری فوجی دستے صومالیہ روانہ

مصر کی یہ فوجی شرکت صومالیہ کی وحدت اور علاقائی سالمیت کی حمایت کے لیے قاہرہ کے عزم کی عکاسی کرتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود اور مصری وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل عبدالمجید صقر نے صومالیہ میں سکیورٹی اور استحکام کے تعاون کے لیے افریقی یونین مشن میں شامل مصری افواج کی پریڈ کا معائنہ کیا۔

مصر کی یہ فوجی شرکت صومالیہ کی وحدت اور علاقائی سالمیت کی حمایت کے لیے قاہرہ کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ شرکت موگادیشو کی اپنی قومی خود مختاری کی بحالی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدد فراہم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے، جو کہ براعظم افریقا میں بین الاقوامی امن و سلامتی کے ستونوں کی حمایت میں مصر کے قائدانہ کردار کا مظہر ہے۔ اس تقریب میں، جس میں مصری چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل احمد خلیفہ بھی شریک تھے، افواج کی تیاریوں اور ساز و سامان کے حوالے سے بریفنگ دی گئی، جس میں تمام ہتھیاروں اور شعبوں کی جنگی تیاریوں اور مستعدی کو اجاگر کیا گیا۔

اس کے بعد متعدد تربیتی مشقیں کی گئیں اور مشن میں شامل گاڑیوں کے نمونوں کی نمائش کی گئی۔ شریک افواج نے پیشہ ورانہ تربیتی سطح کے ذریعے تیاری کے مراحل مکمل کر لیے ہیں، جو انہیں مختلف حالات میں تفویض کردہ ذمہ داریوں کو مہارت اور قابلیت کے ساتھ انجام دینے کے قابل بناتے ہیں۔

دوسری جانب مصری فوجی ترجمان نے بتایا کہ یہ اقدام مصر کے اس تاریخی موقف کی تائید ہے جو بین الاقوامی امن و سلامتی کے ستونوں کی حمایت کے لیے فعال شرکت کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل صدر عبدالفتاح السیسی نے صومالی صدر ڈاکٹر حسن شیخ محمود کا استقبال کیا تھا۔ دونوں صدور کے درمیان ہونے والی بات چیت میں مصر اور صومالیہ کے دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور باہمی دل چسپی کے علاقائی و بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صومالی صدر کا یہ دورہ اسرائیل کی جانب سے "صومالی لینڈ" کو تسلیم کیے جانے کے چند ہفتوں بعد ہوا ہے، جس اقدام کو مصر سمیت سعودی عرب اور ترکیہ جیسے کئی ممالک نے مسترد کر دیا تھا۔

ان ممالک نے اس اقدام کی مکمل مخالفت کا اعادہ کرتے ہوئے اسے صومالیہ کی وحدت اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی اور ہارن آف افریقا میں استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا۔ مصر نے صومالیہ کی وحدت، خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت پر زور دیا اور کسی بھی ایسے یک طرفہ اقدام کو مسترد کر دیا جو صومالی خود مختاری کو متاثر کرے یا ملک میں استحکام کی بنیادوں کو کمزور کرے۔

مصر نے صومالیہ کے قانونی ریاستی اداروں کی حمایت کی تاکید کی اور صومالی ریاست کی وحدت کے منافی متوازی اداروں کو مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کر دیا۔

مصر اور صومالیہ نے اگست 2024 میں فوجی تعاون کے ایک پروٹوکول پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد صومالی کیڈرز کی صلاحیتوں میں اضافہ، امن و استحکام کے قیام میں قومی اداروں کے کردار کو مضبوط بنانا، دہشت گرد اور انتہا پسند تنظیموں کا مقابلہ کرنا اور صومالی ریاست کو اپنی تمام سرزمین پر خود مختاری اور کنٹرول حاصل کرنے کے قابل بنانا ہے۔

یاد رہے کہ 20 جولائی 2024 کو صومالی کابینہ نے مصر کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے کی منظوری دی تھی۔ یہ معاہدہ دوطرفہ تعلقات میں ایک معیاری تبدیلی ثابت ہوا، جس میں سکیورٹی کوآرڈینیشن، فوجی تربیت، تجربات کے تبادلے اور صومالی افواج کو تکنیکی مدد فراہم کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size