’’ ایس ڈی ایف‘‘ حکومت کا حصہ، اسرائیلی اقدامات استحکام کیلئے خطرہ ہیں: شامی وزیر خارجہ

امریکہ کے تعاون سے اسرائیل کو مذاکرات کی میز پر لائے ہیں: اسعد الشیبانی کا میونخ سکیورٹی کانفرنس میں خطاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے کہا ہے کہ اسرائیل کے اقدامات شام کے استحکام کو متزلزل کر رہے ہیں۔ میونخ سکیورٹی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ کے تعاون سے اسرائیل کو مذاکرات کی میز پر لائے ہیں۔ اسرائیل شام کے حوالے سے خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔

شامی وزیر نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی 'قسد' (سیریئن ڈیموکریٹک فورسز) کے رہنماؤں کی موجودگی میں ملاقات شامی اتحاد کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "قسد" شام کی حکومت کا حصہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم قسد کے ساتھ ایک ایسے نقطہ نظر پر کام کر رہے ہیں جو مکمل انضمام کو یقینی بنائے۔

شامی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے ’’ العربیہ/ الحدث ‘‘ کو بتایا کہ اسعد الشیبانی نے میونخ میں واضح کیا کہ شام تقسیم کا شکار نہیں ہوگا۔ اس سے قبل امریکی وزارت خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ مارکو روبیو نے میونخ کانفرنس کے موقع پر اپنے شامی ہم منصب اسعد الشیبانی اور ایس ڈی ایف کے کمانڈر مظلوم عبدی سے ملاقات کی ہے۔ رائٹرز کے مطابق روبیو نے مستقل جنگ بندی کے نفاذ اور شمال مشرقی شام میں انضمام کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے امریکہ کے ساتھ مکمل تعاون کے شامی حکومت کے عزم کا بھی خیر مقدم کیا۔

شامی وزارت خارجہ نے جمعہ کو بتایا تھا کہ اسعد الشیبانی اور روبیو کی ملاقات میں شام کی سالمیت کی توثیق کی گئی اور "قسد" کے ساتھ حالیہ معاہدے پر تبادلہ خیال ہوا۔ امریکی جانب سے شامی حکومت اور "قسد" کے درمیان 30 جنوری کو ہونے والے انضمام کے معاہدے کی حمایت کا اظہار کیا گیا۔ وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں الشیبانی کے ساتھ مظلوم عبدی اور کرد رہنما الہام احمد بھی امریکی وفد سے ملاقات میں نظر آئے۔ دوسری جانب مظلوم عبدی نے اس ملاقات کو مثبت قرار دیا۔

یاد رہے 30 جنوری کو شامی حکومت اور "قسد" کے درمیان ایک جامع معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت جنگ بندی کی توثیق اور کرد فورسز کے سرکاری فوج میں مکمل انضمام کے اقدامات شروع کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔ اس کے بعد "قسد" نے حسکہ، قامشلی، ایئرپورٹ اور تیل کے کنویں سرکاری سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں