اسرائیل : ایران پر امریکی حملہ قریب تر ہے ، حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ ایران پر امریکی حملہ قریب تر ہو گیا ہے۔ یہ بات اسرائیل کے اخبار یدعوت اورنوت نے کہی ہے۔

اخبار نے ان ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے جن کی حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ حملہ کرنے کی طرف مائل ہیں۔

اس کے ساتھ ہی ہونے والی ایک پیش رفت کے بارے میں ذرائع نے چینل 12 کو بتایا ہے کہ ایران پر امریکی حملے کے سلسلے میں تل ابیب نے اپنے ہاں دفاعی تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور تمام محاذوں کو اضافی بنیادوں پر جنگ کے لیے تیار کر لیا ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل آنے والے دنوں میں ایک پیچیدہ صورتحال کی طرف جا رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومت ہر طرح کے منظر نامے کے لیے تیار ہے۔

نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے اپنے 'ٹروتھ سوشل' پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ اگر امریکہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکا تو یہ ایران کے لیے بہت برا دن ہوگا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خبروں کو مسترد کیا ہے۔ جن میں کہا گیا ہے کہ امریکی افواج کے چیئرمین آف جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈینیئل کین نے صدر کو ایران پر حملے کی صورت پیدا ہونے والے خطرات سے آگاہ کیا ہے۔ کہ ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی آپریشن سے کئی مسائل پیدا ہوں گے۔

صدر ٹرمپ نے کہا امریکہ ایران کو آسانی سے شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہے تصادم کی خواہ کوئی بھی شکل ہو۔

اس دوران چیئرمین آف جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈینیئل کین کے حوالے سے فیک نیوز پھیلائی گئی ہیں کہ وہ ایران سے جنگ کرنے کے مخالف ہیں۔ ٹرمپ نے یہ وضاحت اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ 'ٹروتھ سوشل' پر کی ہے۔

امریکہ و ایران کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور جمعرات کے روز جنیوا میں منعقد ہوگا۔ مذاکرات کے تیسرے دور کو اب تک انتہائی خطرناک دور قرار دیا گیا ہے کیونکہ مذاکرات کے ساتھ ساتھ دونوں اطراف اپنی بھرپور جنگی تیاریوں میں مصروف ہیں۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایران تیسرے مذاکرات کے دوران اپنی نئی تجاویز پیش کرے گا۔ ان کی یہ تجاویز اومان کے وزیر خارجہ کے ذریعے امریکہ کو منتقل کی جائیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں