ایران میں پچھلے دو تین روز سے پھر سے شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران حکام نے مظاہروں میں شریک طلبہ کو ایک خاموش انتباہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ملکی قانون اور سلامتی کی 'ریڈ لائنز' کو کراس نہ کریں۔ امریکہ و اسرائیل کی طرف سے جنگی دھمکیوں اور تیاریوں کے باعث دباؤ میں آچکی ایرانی قیادت کے لیے ملک کے اندر مظاہروں کا ایک بار پھر شروع ہونا دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
ایرانی یونیورسٹی سٹوڈنٹس نے یونیورسٹیوں میں نئے سیمسٹرز کے آغاز کے موقع پر اختتام ہفتہ پر دوبارہ سے حکومت مخالف نعرے لگائے اور ایرانی رجیم کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔
ایران میں 28 دسمبر سے شروع ہونے مظاہرے ماہ جنوری کے دوسرے ہفتے کے شروع میں اپنے عروج پر پہنچنے کے بعد ٹھنڈے پڑ گئے تھے۔ کیونکہ جنوری کے دوسرے ہفتے کے شروع میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی تھیں۔
اب پیر کو تیسرے دن بھی 'اے ایف پی' نے تہران میں یونیورسٹیوں کے مظاہروں کو رپورٹ کیا جو ایرانی پرچم کو جلا رہے تھے اور 1979 میں شاہ کے خلاف آنے والے انقلاب کے بارے میں مذمتی نعرے لگا رہے تھے۔
ایرانی حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے منگل کے روز ان مظاہروں کی تازہ لہر پر اپنے ردعمل میں کہا بلاشبہ طلبہ کو جائز احتجاج کا حق ہے مگر انہیں احتجاج کے دوران 'ریڈ لائنز' کا دھیان رکھنا چاہیے۔
ترجمان نے کہا قومی پرچم کو جلانا ایرانی 'ریڈ لائنز' میں شامل ہے اور خواہ کتنا بھی کسی کو غصہ ہو، قومی پرچم کی حفاظت کرنا لازم ہے۔ جن لوگوں نے قومی پرچم کو جلایا ہے ان کے اس اقدام سے غم و غصہ پیدا ہونا لازمی ہے۔
احتجاجی مظاہروں کی دسمبر میں شروع ہونے والی لہر کے بعد سے اب تک امریکہ میں قائم این جی او 'ہرانا' کے مطابق اب تک 7 ہزار کے قیب لوگ مارے جا چکے ہیں۔ جبکہ ایرانی حکام 3117 ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہیں۔ ایرانی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان ہلاک شدہ افراد میں عام راہگیر اور سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔
مہاجرانی نے منگل کے روز کہا مظاہروں میں ہونے والے واقعات اور ہلاکتوں کے اسباب کا جائزہ لینے کے لیے قائم کردہ 'فیکٹ فائنڈنگ مشن' اپنا کام کر رہا ہے اور اس کی رپورٹ مکمل ہونے پر آگے پیش رفت ہو سکے گی۔
امریکہ نے اس صورتحال میں ایران کے خلاف اپنی جنگی تیاریوں کو انتہائی سطح تک مکمل کر لیا ہے اور بحیرہ عرب میں بحری بیڑوں سمیت جدید ترین ہتھیار پہنچا دیے ہیں۔
امریکی بحری بیڑہ ابراہم لنکن تقریبا ایک ماہ سے زائد عرصے سے بحیرہ عرب میں ایران کے خلاف بھیجا گیا تھا۔ جبکہ دوسرا بحری بیڑہ 'جیرالڈ آر فورڈ' بھی علاقے میں امریکی اڈے پر موجود ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن ہے۔ جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران جوہری بم بنانے کے قریب ہے۔ جیسا کہ خصوصی نمائندے سٹیو وٹکودف نے اپنی حالیہ گفتگو میں کہا ایران جوہری بم بنانے سے محض ایک ہفتے کے فاصلے پر کھڑا ہے۔
ایران نے امریکی جنگی تیاریوں اور دھمکیوں کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران پر کوئی بھی حملہ جنگ کو پورے علاقے میں پھیلادے گا۔ ایرانی پاسداران انقلاب کور کی بحری و بری افواج نے حالیہ دنوں میں فوجی مشقیں مکمل کی ہیں اور اپنی جنگ کے لیے تیاری کا اشارہ دیا ہے۔
اس دوران چیئرمین آف جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈینیئل کین کے حوالے سے فیک نیوز پھیلائی گئی ہیں کہ وہ ایران سے جنگ کرنے کے مخالف ہیں۔ ان خبروں کی صدر کی طرف سے تردید کے باوجود خبروں کا کافی چرچا ہے۔
تاہم صدر ٹرمپ نےکہا امریکہ ایران کو آسانی سے شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہے تصادم کی خواہ کوئی بھی شکل ہو۔ جبکہ امریکی جنرل کے حوالے سے پھیلائی گئی جنگ سے گریز کی خبریں غلط ہیں۔ ٹرمپ نے یہ وضاحت اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ 'ٹروتھ سوشل' پر کی ہے۔
امریکہ و ایران کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور جمعرات کے روز جنیوا میں منعقد ہوگا۔ مذاکرات کے تیسرے دور کو اب تک انتہائی خطرناک دور قرار دیا گیا ہے کیونکہ مذاکرات کے ساتھ ساتھ دونوں اطراف اپنی بھرپور جنگی تیاریوں میں مصروف ہیں۔