سعودی وزارت خارجہ نے ایران کی جانب سے ترکیہ اور آذربائیجان کو نشانہ بنانے کی کوشش کی شدید مذمت کی ہے ... اور ان اقدامات کو مکمل طور پر مسترد کرنے کی تصدیق کی ہے جو خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
سعودی عرب نے اس بات پر زور دیا کہ یہ بزدلانہ کوششیں اور خطے کے ممالک کے خلاف ایرانی رویے کا تسلسل ایک ایسے جارحانہ طرزِ عمل کو بے نقاب کرتا ہے جس کا کسی بھی صورت میں جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ رویہ واضح طور پر بین الاقوامی قوانین، رواج اور حسنِ جوار کے اصولوں کے منافی ہے، ساتھ ہی انتباہ بھی کیا کہ اس طرح کی سرگرمیاں خطے کو مزید تناؤ اور کشیدگی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
سعودی عرب نے ترکیہ اور آذربائیجان کی حکومتوں اور عوام کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کے اپنی سلامتی، فضائی حدود، علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے حق کی تائید کی ہے۔ مزید برآں، سعودی عرب نے کشیدگی سے بچنے اور خطے کے امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے دونوں ممالک کی کوششوں کو سراہا ہے۔
-
مشرق وسطی تنازع کے علی الرغم پاکستان کی ایندھن کی ضرورت پوری کریں گے: سعودی عرب
ضرورت پڑی تو امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی حفاظت کرے گی: ٹرمپ
پاكستان -
غیر ہنگامی عملے کو سعودی عرب، عمان سمیت دیگر ممالک چھوڑنے کی اجازت ہے: امریکہ
جیسا کہ ایران نے امریکی-اسرائیلی فضائی حملوں کے خلاف جوابی حملے شروع کر رکھے ہیں ...
بين الاقوامى -
سعودی اور امریکی وزرائے خارجہ کا رابطہ ، علاقائی سطح پر ایران کے خطرات پر بات چیت
سعودی عرب نے اپنے امن و سلامتی کے دفاع اور اپنی سرزمین کی حفاظت کے لیے تمام ضروری ...
مشرق وسطی