ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے اشتعال کے نتیجے میں اپنی قوم کو ایران کے ساتھ ایک ظالمانہ جنگ میں دھکیل دیا ہے۔
لاریجانی نے ’’ ایکس ‘‘پر فارسی اور عربی زبانوں میں لکھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے اشتعال اور اس کے مضحکہ خیز اقدامات کے نتیجے میں امریکی عوام کو ایران کے ساتھ ایک ظالمانہ جنگ میں جھونک دیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اب بھی نعرہ ’’ پہلے امریکہ ‘‘ برقرار ہے؟ یا یہ ’’ پہلے اسرائیل ‘‘ بن چکا ہے؟۔ انہوں نے جنگ کے پانچویں دن اپنے اس بات پر بھی زور دیا کہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی اور علی خامنہ ای کی ہلاکت کی آپ کو بہت بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔
حملے کا آغاز
یاد رہے 28 فروری 2026 کی صبح اسرائیل نے ایران پر ’’ شیر کی دھاڑ ‘‘ کے نام سے حملے کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔ واشنگٹن نے بعد میں بتایا کہ اس نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ’’ شدید غضب ‘‘ کے نام سے ایک بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا ہے جس کا مقصد ایرانی نظام حکومت کا تختہ الٹنا ہے۔ دریں اثنا ایران نے جواب میں اسرائیل، عراق، اردن اور ان خلیجی ملکوں کی طرف میزائلوں اور ڈرونز کے دستے روانہ کیے جہاں متعدد امریکی اڈے موجود ہیں۔ تہران نے یکم مارچ کو ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے علاوہ وزیر دفاع اور مسلح افواج کے چیف آف سٹاف عبدالرحیم موسوی کے جاں بحق ہونے کا اعلان کیا تھا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے بعد میں کہا کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے پہلے دن ایران کے تقریباً 40 اعلیٰ عہدیدار جاں بحق ہوئے ہیں۔