ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری علی لاریجانی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی علاحدگی پسند گروہ کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ ان کا یہ بیان ان اطلاعات کے تناظر میں سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ کرد مسلح افراد ایران کے مغربی حصے میں زمینی کارروائی شروع کرنے کے لیے داخل ہوئے ہیں۔
لاریجانی نے آج جمعرات کے روز مزید کہا کہ علاحدگی پسند گروہ یہ نہ سمجھیں کہ معاملات قابو سے باہر ہو گئے ہیں لہذا وہ کسی بھی قسم کی کارروائی کی کوشش کریں۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ایرانی افواج علاحدگی پسندوں کو ہرگز برداشت نہیں کریں گی اور مسلح افواج صورتحال پر مکمل کنٹرول رکھتی ہیں۔
یہ بیان جمعرات کو ان تمام مغربی رپورٹوں کی تردید کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کرد مسلح افراد کے داخلے اور زمینی کارروائی شروع کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ خبر رساں ایجنسی "تسنیم" کے مطابق مذکورہ ذریعے نے موقف اختیار کیا کہ امریکہ اور اسرائیل میدان میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد اب نفسیاتی جنگ کے ذریعے ایرانیوں کے عزم کو متزلزل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے صوبہ ایلام کے معزز عوام کو یقین دلایا کہ عراق کے ساتھ صوبے کی پوری سرحد پر امن و امان قائم ہے اور فوجی و سکیورٹی فورسز ایرانی سرزمین اور سرحدوں کا پوری قوت سے دفاع کر رہی ہیں۔ سکیورٹی عہدے دار نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نفسیاتی کارروائیوں کے حوالے سے پریشان ہونے کی قطعی ضرورت نہیں۔ انہوں نے ایرانیوں سے اپیل کی کہ وہ خبروں کے لیے معتبر میڈیا ذرائع سے رجوع کریں۔
یہ پیش رفت ایک اعلیٰ سطح کے امریکی عہدے دار کے اس اعلان کے بعد ہوئی جس میں کہا گیا تھا کہ ایرانی کرد گروہوں نے ایران میں زمینی حملہ شروع کر دیا ہے۔ امریکی ویب سائٹ "axios" کے مطابق عہدے دار نے تصدیق کی کہ ایرانی کرد مسلح افراد شمال مغربی ایران کے علاقے میں داخل ہو چکے ہیں اور انہوں نے زمینی حملہ شروع کر دیا ہے۔ ادھر "فوکس نیوز" نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ اس زمینی کارروائی میں ہزاروں کرد مسلح افراد شریک ہیں۔
اسی تناظر میں ایک اسرائیلی ذریعے نے "یسرائیل ہیوم" اخبار کو بتایا کہ کردوں کی یہ کارروائی حقیقی اور انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی کابینہ اس کرد حملے کو زیر بحث لانے کے لیے اجلاس منعقد کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی میڈیا نے خبر دی تھی کہ عراق میں مقیم کرد گروہ ایران میں زمینی حملہ شروع کریں گے۔ ان رپورٹس میں بتایا گیا کہ "حزبِ حیاتِ آزادِ کردستان" (PJAK) سے وابستہ ہزاروں کرد جنگجو ایرانی افواج کے خلاف اس حملے میں حصہ لیں گے، جنہوں نے پیر سے ایرانی سرزمین کے اندر جنگی پوزیشنیں سنبھالنا شروع کر دی تھیں۔
اسرائیلی میڈیا نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ زمینی فوجی نقل و حرکت 2 مارچ کی آدھی رات کے بعد شروع ہوئی۔ مسلح افواج نے 3 مارچ کو سرحدی شہر مریوان کو خالی کروا کر وہاں اور اس کے گرد و نواح میں دفاعی پوزیشنیں قائم کر لیں۔ اس کے بعد فوجی قوت مغربی ایران میں مریوان کے جنوبی پہاڑوں کی طرف منتقل ہو گئی، تاہم ایرانی ذریعے نے ان تمام باتوں کی مکمل تردید کی ہے۔