ایران جنگ میں ہلاک شدہ اولین امریکی فوجیوں کی میتیں واپسی پہنچ گئیں، ٹرمپ کی شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز ایران جنگ کے دوران ہلاک شدہ اولین چھے امریکی فوجیوں کی باقیات کی واپسی کے لیے منعقدہ تقریب میں شرکت کی۔

ڈیلاویئر میں ڈوور ایئر فورس بیس پر جب فوجیوں نے پرچم میں لپٹے ہوئے تابوت فوجی طیارے سے نکالے تو ٹرمپ نے سلامی پیش کی جو"یو ایس اے" کے الفاظ والی سفید بیس بال ٹوپی پہنے ہوئے تھے۔ بیرونِ ملک ہلاک شدہ امریکی فوجیوں کی باقیات کو امریکی سرزمین پر یہاں واپس لایا جاتا ہے۔

خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین اور دیگر سینئر حکام اور قانون ساز بھی امریکی صدر کے ہمراہ تھے۔

یہ فوجی گذشتہ اتوار کو کویت میں امریکی کمانڈ سینٹر پر ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے۔

ہلاک شدہ فوجی -- پانچ مرد اور ایک خاتون جن کی عمریں 20 سے 54 سال تھیں -- ڈیل موئنز، آئیووا میں واقع 103 ویں سسٹینمنٹ کمانڈ کو تفویض کردہ ارکانِ مخصوصہ تھے۔ یہ یونٹ فوجیوں کو خوراک، ایندھن، سازوسامان اور گولہ بارود کی فراہمی کا ذمہ دار ہے۔

امریکی فوجیوں کی باقیات کی "باوقار منتقلی" ایک امریکی صدر کی طرف سے انجام پانے والے انتہائی سنجیدہ فرائض میں سے ایک ہے۔

یہ عمل کوئی رسمی سرکاری تقریب نہیں ہوتا بلکہ احتیاط سے انجام پانے والی فوجی رسم ہوتی ہے۔

ٹرمپ نے اپنی صدارت کے دوران ایسی متعدد تقاریب میں شرکت کی ہے اور وائٹ ہاؤس نے پہلے کہا تھا کہ وہ کویت میں ہلاک شدہ چھے افراد کو اعزاز بخشیں گے حتیٰ کہ تاریخ کا اعلان بھی کیا تھا۔

اس حملے سے شرقِ اوسط میں تعینات امریکی اہلکاروں کو درپیش خطرات کی نشاندہی ہوتی ہے کیونکہ ایران کے ساتھ تنازعہ بڑھتا جا رہا ہے اور تہران نے پورے خطے میں امریکی اور اتحادیوں کے اہداف پر ڈرون اور میزائل داغے ہیں۔

امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں لڑائی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔

اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے خبردار کیا کہ امریکہ ایران کو "بہت سخت" ضرب لگائے گا اور نئے اہداف شامل کرنے کے لیے حملوں میں توسیع کرنے کی دھمکی دی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size