بغداد ایئرپورٹ کے نزدیک راکٹ و ڈرون حملے عراقی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں : ترجمان وزارت انصاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

عراق نے خبردار کیا ہے کہ بغداد میں ایئرپورٹ کے نزدیک ڈرون حملے عراقی سلامتی کے لیے خطرناک ہوں گے۔ جہاں حال ہی میں داعش کے قیدیوں کو لا کر متصلہ جیل میں رکھا گیا ہے۔

امریکہ نے ماہ فروری میں داعش کے تقریباً 6 ہزار افراد کو شام کی جیلوں سے نکال کر عراق منتقل کیا تھا۔ جو عراق کے لیے ایک چیلنج اور مستقل سر دردی کا باعث نظر آتے ہیں۔

داعش سے متعلق یہ قیدی بغداد کی الکرخ جیل میں رکھے گئے ہیں۔ امریکی فوج نے اس حراستی مرکز کو کراپر کیمپ کا نام دے رکھا تھا۔ یہ حراستی مرکز بغداد کے بین الاقوامی ایئرپورٹ سے جڑا ہوا ہے۔

عراق کی وزارت انصاف کے ترجمان احمد لائیبی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جیل کا علاقہ ایئرپورٹ کے اردگرد پر محیط ہے۔ جبکہ اس علاقے میں بار بار حملے کیے گئے ہیں۔ بعض حملے ایسے بھی ہوئے ہیں جو اس حڑاستی مرکز کے بالکل قریب ہوئے ہیں۔ جس سے حراستی مرکز کو خطرہ پیدا ہوگیا ہے جو بالآخر عراق ہی کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے کیونکہ جیل میں داعش کے خطرناک دہشت گرد موجود ہیں۔

ترجمان نے کہا اب تک بہت خطرناک حملے کیے گئے ہیں جن میں ہفتہ کے روز جیل کے قریب تر حملے ہوئے ہیں۔

مشرق وسطیٰ کی جنگ کے آغاز سے ہی ایران کے حامی مسلح گروپ ہر روز ڈرون طیاروں اور راکٹوں سے امریکی فوجی اڈے پر حملے کر رہے ہیں۔ عراق میں امریکی فوجی کئی بروں سے موجود ہیں جن کی موجودگی کا جواز امریکہ داعش کا خاتمہ بتاتا ہے۔

ترجمان نے کہا استحکام برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں۔ تاہم ڈرون اور راکٹ حملے زیادہ ہو رہے ہیں جن پر ہمیں تشویش ہے۔

داعش نے عراق اور شام میں کچھ علاقوں پر قبضہ کر کے اپنی حکومت قائم کر لی تھی۔ بعد ازاں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا ارتکاب بھی کیا گیا۔ تاہم امریکہ نے عراقی کردوں کے ساتھ مل کر داعش کا خاتمہ کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں