جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے ممکنہ کوششوں کا ایران کی طرف سے خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران ہر اس شروع کی جانے والی کوشش کا خیر مقدم کرے گا جو جنگ کے مکمل خاتمے کا باعث بنے۔ انہوں نے یہ بات اتوار کے روز کہی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا ایران اس وقت بھی قطر، سعودی عرب ، اومان اور دوسرے پڑوسی ملکوں کے ساتھ سفارتی سطح پر رابطوں میں ہے۔

ان کا کہنا تھا یہ بہت ممکن ہے کہ عرب ملکوں کے شہری اہداف کو اسرائیل نشانہ بنا رہا ہے یا وہ ان کے پیچھے ہو۔ کیونکہ ایران نے کسی بھی رہائشی علاقے کو عرب ملکوں میں نشانہ نہیں بنایا ہے۔

اس موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا امریکہ کا بنایا گیا لوکاسٹ ڈرون ایران کے شاہد ڈرون سے ملتا جلتا ہے۔ ممکن ہے اس مماثلت کا اسرائیل یا امریکہ نے فائدہ اٹھایا ہو۔

ایرانی وزیر خارجہ نے یہ بھی پیشکش کی کہ ایران اڑوس پڑوس کے ملکوں میں ہونے والے ڈرون حملوں کے سلسلے میں تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل کے لیے بھی تیار ہے۔ تاکہ صحیح حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ دوسرے ملکوں کو ایسے کسی بھی اقدام سے دور رہنا چاہیے جو جنگی دائرے کو اسرائیل و امریکہ سے بھی زیادہ پھیلا دے۔

یہ بات انہوں نے فرانس کے وزیر خارجہ جین نوئیل بیرٹ سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے بھی کہی۔ تاکہ کشیدگی کو وسعت نہ ملے اور بین الملکی تصادم کا پھیلاؤ نہ ہو۔

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق انہوں نے فرانس کے وزیر خارجہ سے فون پر گفتگو اتوار کے روز کی ہے۔

ایک روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دیگر ملکوں سے مدد طلب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنے طیارہ بردار جہازوں کو سمندروں میں بھیجے تاکہ آبنائے ہرمز کی نگرانی کے لیے امریکہ کی مدد ہو سکے۔ جسے ایران نے امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کے لیے بند کر رکھا ہے۔

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور اب تک اس میں ایران میں ڈیڑھ ہزار کے قریب لوگ مارے گئے ہیں۔ جبکہ امریکہ و اسرائیل کا جانی نقصان ڈیڑھ دو درجن سے زیادہ نہیں ہے۔ البتہ امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد اسرائیلی فوجیوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں