بغداد ایئرپورٹ کے نزدیک میزائل ... امریکی سفارت خانے پر ڈرون حملہ

الجادریہ کے علاقے میں ایک مکان پر حملہ جہاں دو ایرانی مشیر بطور مہمان ٹھہرے ہوئے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری علاقائی جنگ کے تناظر میں آج منگل کے روز عراقی دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارت خانے کو ایک بار پھر ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق کم از کم پانچ ڈرونز اور متعدد میزائلوں نے سفارت خانے کو نشانہ بنایا، جسے جنگ کے آغاز سے اب تک کا شدید ترین حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق دفاعی نظام نے دو ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، تاہم تیسرا سفارت خانے کے احاطے میں گرا جس سے وہاں آگ بھڑک اٹھی۔ ساتھ ہی بغداد ایئرپورٹ کے قریب امریکی سفارتی تنصیب پر بھی میزائل داغے گئے۔

دوسری جانب بغداد کے علاقے الجادریہ میں ایک مکان پر فضائی حملے کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے، جن میں مبینہ طور پر دو ایرانی مشیر بھی شامل تھے۔ 28 فروری کو جنگ چھڑنے کے بعد سے ایران کے حامی عراقی گروہ مسلسل امریکی مفادات کو نشانہ بنا رہے ہیں، جس کے جواب میں امریکہ بھی ان گروہوں کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہا ہے۔

گزشتہ روز عراقی حزب اللہ نے اپنے سینئر کمانڈر اور ترجمان "ابو علی العسکری" کی ہلاکت کی تصدیق کی، جبکہ القائم کے مقام پر فضائی حملوں میں الحشد الشعبی تنظیم کے آٹھ اہل کار بھی مارے گئے۔

کشیدگی کے پیشِ نظر بغداد کے ریڈ زون (گرین زون) کو بند کر کے سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ عراقی حکومت نے سفارتی مراکز، ہوٹلوں اور سویلین تنصیبات کو نشانہ بنانے کی سخت مذمت کی ہے۔

واضح رہے کہ الحشد الشعبی، جو اب عراقی عسکری ادارے کا باضابطہ حصہ ہے اس کے بعض دھڑے "عراق میں اسلامی مزاحمت" کے نام سے آزادانہ کارروائیاں کر رہے ہیں۔ عراق طویل عرصے سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان رسہ کشی کا میدان رہا ہے، تاہم موجودہ جنگ نے عراقی حکام کو ایک ایسی مشکل صورتحال میں دھکیل دیا ہے جہاں ان کا اثر و رسوخ محدود نظر آتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں