لبنان: حزب اللہ کے چار ارکان پر اسلحہ منتقل کرنے اور رکھنے کا مقدمہ درج
دو کو جنوبی لبنان کی طرف راکٹ منتقل کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔ دو کے قبضے سے جنگی اسلحہ برآمد کیا گیا
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی نے ایک لبنانی عدالتی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ لبنان میں فوجی عدالت کے گورنمنٹ کمشنر نے حزب اللہ کے چار ارکان پر اسلحہ رکھنے اور منتقل کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا۔ یہ کارروائی حکام کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ باری، جس کے نتیجے میں جنگ چھڑ گئی تھی، کے بعد گروپ کی فوجی سرگرمیوں پر پابندی کے فیصلے کے پس منظر میں کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جج کلوڈ غانم نے حزب اللہ کے چار ارکان پر فردِ جرم عائد کی ہے جن میں سے دو کو جنوبی لبنان کی طرف راکٹ منتقل کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ دیگر دو کے قبضے سے غیر لائسنس یافتہ جنگی اسلحہ برآمد ہوا تھا۔
جج کلوڈ غانم نے گرفتار ہونے والوں کی فائل بیروت کی پہلی تفتیشی جج غادة ابو علوان کو بھیج دی ہے اور ان سے پوچھ گچھ کرنے اور ان کے خلاف باقاعدہ وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔
واضح رہے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان موجودہ جنگ 2 مارچ کو اس وقت شروع ہوئی جب تہران کے حمایت یافتہ گروپ نے امریکی ۔ اسرائیلی حملے کے پہلے دن ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے اسرائیل کی طرف راکٹ داغے تھے۔ تب سے اسرائیل لبنان پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کر رہا ہے اور اس کی افواج اپنی سرحد سے متصل جنوبی لبنان میں بھی داخل ہو رہی ہیں۔
حزب اللہ کی جانب سے راکٹ داغے جانے کے بعد لبنانی حکومت نے اس کی فوجی اور سکیورٹی سرگرمیوں پر پابندی کا اعلان کیا تھا اور اس سے اپنا اسلحہ ریاست کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد لبنانی فوج نے اسلحہ رکھنے کے جرم میں 27 افراد کی گرفتاری کا اعلان بھی کیا ہے۔ رواں ماہ کے اوائل میں حزب اللہ کے تین ارکان فوجی عدالت میں پیش ہوئے جہاں ان سے غیر لائسنس یافتہ جنگی اسلحہ رکھنے کے جرم میں پوچھ گچھ کی گئی تاہم عدالت نے انہیں تقریباً 20 ڈالر کے مساوی ضمانت پر رہا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے سے لبنان میں گروپ کے مخالفین نے غم و غصہ کا اظہار کیا تھا۔