جنگ کی باگ ڈور سنبھالنے والے ایران کے طاقتور ترین شخص باقر قالیباف کون ہیں؟

محمد باقر قالیباف عسکری سے لے کر شہری امور تک کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ایرانی پارلیمنٹ (مجلس شوریٰ) کے سپیکر اور پاسداران انقلاب کے سابق سینیئر کمانڈر محمد باقر قالیباف بہت سے ایرانی قائدین کی یکے بعد دیگرے ہلاکتوں کے بعد اسلامی جمہوریہ کی اہم ترین سیاسی شخصیت بن کر ابھرے ہیں۔ ایسے کئی اشارے مل رہے ہیں کہ قالیباف جو گذشتہ تین دہائیوں سے ایرانی سیاسی منظر نامے کا ستون اور ملک کی سب سے نمایاں غیر مذہبی شخصیت سمجھے جاتے ہیں، اب جنگ کی باگ ڈور چلا رہے ہیں۔

جہاں نئے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد علی خامنہ ای کی ایک امریکی و اسرائیلی حملے میں ہلاکت کے بعد سے اب تک منظر عام پر نہیں آئے اور صرف تین تحریری بیانات جاری کیے ہیں، وہیں قالیباف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے موقف کی تشہیر اور میڈیا کو انٹرویوز دینے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے گذشتہ بدھ کے روز ایرانی ٹیلی ویژن سے گفتگو میں کہا کہ ہم ایک غیر متوازن سیاق و سباق میں عدم مساوی جنگ لڑ رہے ہیں، لہذا ہمیں کچھ کرنا ہوگا اور اپنے ماحول، ڈیزائن اور تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوگا۔

قالیباف نے ’ایکس‘ پر اپنی ایک پوسٹ میں اشارہ دیا کہ ایرانی توانائی کی تنصیبات پر بمباری کے بعد اب ایک نئی مساوات نافذ ہو چکی ہے جس کی بنیاد آنکھ کے بدلے آنکھ ہے اور اب مقابلے کا ایک نیا مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔ تاہم اپنی سکیورٹی کے پیش نظر قالیباف گذشتہ ہفتے یوم القدس کے موقع پر نکالے گئے حکومتی حامی ریلیوں میں نظر نہیں آئے، جبکہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی انہی ریلیوں میں شریک ہوئے تھے جو بعد ازاں ہلاک کر دیے گئے۔

لاریجانی رواں ہفتے کے آغاز میں ایک اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔ ان کی ہلاکت علی خامنہ ای کی 28 فروری سنہ 2026 کو مشرق وسطیٰ میں جنگ چھڑنے کے دن ہونے والی ہلاکت کے بعد ہوئی تھی۔

عسکری و سیاسی تجربے کا حامل کھلاڑی

قالیباف عسکری اور شہری دونوں شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ پاسداران انقلاب کی فضائیہ کے کمانڈر، تہران کے پولیس چیف اور ایرانی دارالحکومت کے میئر رہ چکے ہیں، جس کے بعد وہ پارلیمنٹ کے سپیکر بنے۔ وہ اپنی بڑی خواہشات کے لیے مشہور ہیں اور کئی بار صدارتی انتخاب لڑ چکے ہیں لیکن کامیاب نہیں ہو سکے۔ سنہ 2005ء میں انہیں قدامت پسند محمود احمدی نژاد نے شکست دی تھی جو اس وقت زیادہ مشہور نہیں تھے۔

جنیوا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سینیئر محقق فرزان ثابت کا کہنا ہے کہ لاریجانی کی ہلاکت کے بعد غالباً قالیباف ہی وہ شخص ہیں جو جنگی کوششوں اور اس سے متعلقہ حکمت عملی کی نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ پارلیمنٹ کے سپیکر اور پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر ہیں اور ان کے تمام دھڑوں اور اداروں کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں، جو انہیں ان ذمہ داریوں کے لیے موزوں بناتے ہیں۔

قالیباف نے سنہ 1980ء سے سنہ 1988ء تک جاری رہنے والی ایران عراق جنگ میں حصہ لیا اور تیزی سے فوجی رینک حاصل کیے۔ وہ نوے کی دہائی کے آخر میں پاسداران انقلاب کی نو تشکیل شدہ فضائیہ کی کمان سنبھال کر عسکری ادارے کے اعلیٰ ترین عہدوں پر پہنچے۔ اس کے بعد سنہ 1999ء میں طلبہ کے بے مثال احتجاج کے دوران انہیں پولیس چیف مقرر کیا گیا۔

حقوق انسانی کی تنظیمیں قالیباف پر مختلف عہدوں کے دوران احتجاج دبانے میں کلیدی کردار ادا کرنے کا الزام لگاتی ہیں، جن میں سنہ 1999ء کے طلبہ مظاہرے، سنہ 2009ء کی گرین موومنٹ اور جنوری سنہ 2026ء میں اسلامی جمہوریہ میں ہونے والے بڑے احتجاج شامل ہیں۔

ایران کا نیا مردِ آہن

ییل یونیورسٹی کے لکچرر آرش عزیزی کہتے ہیں کہ ایران کا طاقتور ترین شخص غالباً قالیباف ہی ہے، وہ انہیں ایک ایسی نایاب شخصیت قرار دیتے ہیں جن کا تجربہ عسکری، سکیورٹی اور سیاسی میدانوں تک پھیلا ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ وہ اب جنگی کوششوں کا انتظام سنبھالے ہوئے ہیں اور اس وقت انتہائی مستحکم پوزیشن میں دکھائی دیتے ہیں۔

قالیباف نے پیش گوئی کی ہے کہ یہ جنگ مشرق وسطیٰ کے خدوخال دوبارہ ترتیب دے گی لیکن یہ امریکہ کی شرائط پر نہیں ہوگا۔ انہوں نے ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ یہاں کا نظام بدل جائے گا لیکن یہ امریکہ کی مرضی کا نظام نہیں ہوگا، بلکہ یہ ایک علاقائی اور حقیقی نظام ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں