فرانس نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ لبنانی دریائے لیطانی کے ساتھ جڑے علاقے پر قبضے سے باز رہے۔ یہ بات فرانس کے وزیر خارجہ جین نوئل بیرٹ نے منگل کے روز مغربی خبر رساں ادارے ' اے ایف پی ' کے ساتھ گفتگو میں کہی ہے۔
بیرٹ نے کہا ' اسرائیلی فوج کو اپنی فوج لبنانی علاقے میں قبضے کے لیے نہیں بھیجنی چاہیے۔ کیونکہ ایسی کسی بھی کوشش کے انسانی زندگیوں پر گہرےنقصان دہ اثرات ہوں گے۔ اس لیے ہم اسرائیلی حکام پر زور دیتے ہیں کہ اسرائیل لبنانی علاقے میں ایسے زمینی حملے سے باز رہے۔
دریائے لیطانی جنوبی لبنان میں واقع ہے۔ اسرائیل نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اس لبنانی سرحدی علاقے پر قبضہ کر کے اسے سیکیورٹی زون میں تبدیل کر دے گا۔ نیز اس علاقے سے جنگ کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور کیے گئے لبنانیوں کو واپس بھی نہیں آنے دیا جائے گا۔ دریائے لیطانی سے جڑی یہ30کلو میٹر کی ایک پٹی ہے۔
لبنانی ملیشیا حزب اللہ نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی جاری جنگ میں ہلاکت کے بعد رد عمل میں اسرائیل کے خلاف کارروائیاں شروع کی ہیں۔ جس کے بعد سے اسرائیل نے لبنان کے خلاف پھر سے جنگ شروع کر دی ہے۔
اسرائیلی فوج نے ایک عرصے سے لبنانی حکومت پر دباؤ ڈال رکھا ہے کہ وہ دریائے لیطانی کے علاقے میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرے۔ لبنانی حکومت اس سلسلے میں اسرائیلی فوج سے پورا تعاون کررہی ہے۔ تاہم اب اس نے خود اس لبنانی علاقے پر قبضے کا اعلان کیا ہے۔
اسرائیل کے ساتھ حزب اللہ کی چھڑنے والی جنگ کے باعث لبنانی حکومت نے بیروت میں ایرانی سفیر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک چھوڑ دینے کے لیے کہا ہے۔ فرانس کے وزیر خارجہ نے لبنان کے اس فیصلے کی تریف کی ہے اور کہا ہےیہ لبنانی حکومت کا دلیرانہ فیصلہ ہے۔
-
عراقچی نے خامنہ ای کی مذاکرات پر آمادگی سے وٹکوف کو خفیہ طور پر آگاہ کیا: اسرائیلی میڈیا
مجتبیٰ خامنہ ای ایرانی شرائط کے مطابق جنگ کے فوری خاتمے پر راضی ہو گئے ہیں: ذرائع
مشرق وسطی -
لبنان پر بمباری کا سلسلہ جاری، بے گھر افراد کو واپسی کی اجازت نہیں: اسرائیل
لبنان کے مختلف علاقوں پر اسرائیلی حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ تازہ ترین میدانی ...
مشرق وسطی -
لیطانی دریا تک قبضے کے اسرائیلی منصوبے کے خلاف جنگ لڑیں گے : حزب اللہ کا اعلان
لبنانی ملیشیا حزب اللہ نے اسرائیل کے لبنانی علاقے پر قبضہ کر کے اپنی سرحد لیطانی ...
مشرق وسطی