سعودی عرب نے جمعرات کے روز ریلوے کے ذریعے سامان کی نقل و حمل کے لیے نئے کرایوں کا اعلان کیا ہے۔ یہ کرائے خلیج عرب کی بندرگاہوں سے منسلک ہیں اور مشرقی صوبے سے الحدیثہ کے راستے اردن کو جوڑتی ہیں۔
حکام کے مطابق یہ اقدام اشیاء کی نقل و حمل کا سلسلہ بہتر کرنے اور برآمدات کی سپلائی چین کو مؤثر بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام ویژن 2030 کے تحت نیشنل ٹرانسپورٹ اینڈ لاجسٹکس پالیسی کے مطابق کیا گیا ہے۔
حکام اس ویژن کے تحت کام کرتے ہیں 'ہم فاصلوں کو بہتر مستقبل کے لیے پلوں سے پاٹ دیتے ہیں۔ '
خیال رہے ایران میں جاری جنگ کے دوران پیدا شدہ کشیدگی کے باوجود نقل و حمل اور مال برداری کو آسان اور رواں رکھنے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ کیونکہ ایران نے امریکہ، اسرائیل کے علاوہ اس کے تمام اتحادی ملکوں کی آبنائے ہرمز کے راستے تجارت میں رکاوٹ پیدا کر دی ہے۔ یوں متاثرہ ملکوں کے سامان تجارت کی ترسیل کے لیے بحری راستے کے متبادل کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
سعودی عرب متبادل اقدامات کے لیے پہلے سے کوشاں ہے۔ اس وجہ سے سعودی تیل ینبو کی بندرگاہ کے ذریعے بحر احمر سے گزارا جا رہا ہے۔ تاکہ عالمی منڈی کو تیل کی ترسیل بلا تعطل جاری رہے۔
-
ایرانی جارحیت کا تسلسل تہران کو بھاری سیاسی قیمت چکانے پر مجبور کرے گا:سعودی عرب
ایران کا رویہ بلیک میلنگ اور ملیشیاؤں کی سرپرستی پر مبنی قرار
مشرق وسطی -
سعودی عرب کا ایران کے بلا جواز حملوں پر اقوام متحدہ کے فیصلے کا خیرمقدم
سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے اس بات کا خیرمقدم کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے انسانی ...
مشرق وسطی -
سعودی وزیر خارجہ کی "G - 7" کے اجلاس میں شرکت کے لیے فرانس آمد
بین الاقوامی مسائل اور عالمی گورننس کی اصلاح پر تبادلہ خیال کے لیے
مشرق وسطی