سی این این کے صحافی پر حملے کے بعد اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کی بٹالین واپس بلا لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی فوج نے پیر کو کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقے کے ایک گاؤں میں گذشتہ ہفتے سی این این کے فوٹو جرنلسٹ پر ایک فوجی نے حملہ کر دیا تھا جس کے بعد ایک بٹالین کو مغربی کنارے سے نکال لیا گیا ہے۔

فارن پریس ایسوسی ایشن (ایف پی اے) نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی آبادکاروں کے حملے اور فلسطینی گاؤں تیاسیر کے قریب ایک غیر قانونی چوکی کے قیام پر سی این این کی ایک ٹیم جمعرات کو رپورٹنگ کر رہی تھی تو انہیں اسرائیلی فوجیوں نے حراست میں لے لیا۔

جب فوجیوں نے سی این این کے عملے پر بندوقیں تان لیں تو "ایک فوجی پیچھے سے سی این این کے فوٹو جرنلسٹ کے پاس آیا، اسے گردن سے پکڑ کر زمین پر پٹخ دیا اور اس کے کیمرے کو نقصان پہنچایا،" ایسوسی ایشن نے کہا جو اسرائیل اور فلسطینی علاقوں میں سینکڑوں صحافیوں کی نمائندگی کرتی ہے۔

سی این این نے اس واقعے سے متعلق اپنی رپورٹ میں تفصیلات کی تصدیق کرتے ہوئے سیرل تھیوفیلس کے نام سے فوٹو جرنلسٹ کی شناخت ظاہر کی جن کا تعلق فرانس سے ہے۔

"یہ کوئی غلط فہمی نہیں تھی۔ یہ واضح شناخت کے حامل صحافیوں پر ایک پرتشدد حملہ اور آزادی صحافت پر براہِ راست حملہ تھا،" ایف پی اے نے کہا۔

واقعے کے بعد پیر کے روز فوج نے مغربی کنارے سے ایک بٹالین واپس بلا لی جو ایک غیر معمولی اقدام تھا۔

فوج نے ایک بیان میں کہا، "ریزرو بٹالین کی آپریشنل تعیناتی فی الحال معطل کر دیا جائے گی۔ بٹالین ریزرو سروس میں رہے گی اور اس عمل سے گذرے گی جو اس کی پیشہ ورانہ اور اخلاقی بنیادیں مضبوط کرنے کے لیے ہے۔"

فوج نے مزید کہا، یہ عمل مکمل ہونے کے بعد بٹالین آپریشنل سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دے گی۔

رواں ماہ سی این این کے ساتھ اس نوعیت کا یہ دوسرا واقعہ تھا۔

مارچ کے شروع میں یروشلم میں اسرائیلی پولیس افسران کے "بلا اشتعال حملے" میں سی این این کے ایک پروڈیوسر کی کلائی ٹوٹ گئی تھی۔

انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق مغربی کنارے میں صحافیوں کو متعدد مواقع پر حراست میں لیا گیا، ہراساں یا زدوکوب کیا گیا اور اکتوبر 2023 کے بعد ان واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

امریکہ میں قائم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) کے مطابق اسرائیل تب سے "صحافیوں کے سب سے بڑے جیلر" کے طور پر درج ہے۔

کمیٹی نے کہا کہ اسرائیلی افواج نے غزہ جنگ میں اب تک کم از کم 60 فلسطینی صحافیوں کو حراست میں لیا یا جیلوں میں قید کر رکھا ہے۔

اگرچہ غیر ملکی صحافیوں کو خطرہ کم ہوتا ہے لیکن چوکیوں یا خبریں دینے کی جگہوں پر فوجی اکثر رپورٹروں پر ہتھیار تان لیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں