میزائل گرنے پر حیفا کی ریفائنری میں آگ بھڑک اٹھی : اسرائیلی نشریاتی ادارہ
اسرائیل اور ایران کے درمیان حملوں کا تبادلہ ، ٹرمپ کا معاہدے کی توقع کا اظہار
اسرائیلی نشریاتی ادارے نے آج پیر کو خبر دی ہے کہ ایک میزائل گرنے کے بعد حیفا کی ایک ریفائنری میں آگ بھڑک اٹھی، جبکہ العربیہ کے نمائندے نے شمالی اسرائیل کے شہر حیفا میں تیل کی ایک ریفائنری میں میزائل کے ٹکڑے گرنے کی تصدیق کی ہے۔
ایران اور اسرائیل نے پیر کی صبح ایک دوسرے پر حملے کیے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے نئے مقتدر حلقوں کے ساتھ جلد کسی معاہدے تک پہنچنے کی بات کی ہے، اگرچہ امریکی زمینی حملے کے امکان پر بات چیت بڑھ رہی ہے۔
كبير مراسلي العربية في فلسطين زياد حلبي : سقوط شظايا صاروخ بمصفاة نفط في حيفا شمالي إسرائيل pic.twitter.com/rxOi6UWfBR
— العربية (@AlArabiya) March 30, 2026
ابھی تک اس جنگ میں کسی حقیقی کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے جو 28 فروری کو امریکی اسرائیلی حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔
پاکستان کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات اور واشنگٹن کی جانب سے جنگ کے جلد خاتمے کی باتوں کے باوجود، پیش رفت میں ایک نئی شدت دیکھی گئی جو یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں کی جانب سے گذشتہ ہفتے کے آخر میں اسرائیل پر حملے کی صورت میں سامنے آئی۔ طہران نے خلیج میں اقتصادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا جاری رکھا، جبکہ اسرائیل نے جنوبی لبنان میں "سکیورٹی زون" کو وسعت دینے کا اعلان کیا۔
پیر کی صبح اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ وہ ایران سے ہونے والے ایک میزائل حملے کا مقابلہ کر رہی ہے، اس سے قبل اعلان کیا گیا تھا کہ اس نے طہران میں فوجی مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔
اتوار کی رات ایرانی وزارت توانائی نے بجلی کی تنصیبات پر حملوں کے بعد طہران اور اس کے گردونواح میں بجلی کی معطلی کی اطلاع دی۔ ایرانی میڈیا نے بتایا کہ پیر کی صبح بجلی بحال کر دی گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگ نے ایران میں نظامِ حکومت میں تبدیلی کی راہ ہموار کر دی ہے کیونکہ متعدد حکام مارے جا چکے ہیں جن میں سب سے نمایاں سپریم لیڈر علی خامنہ ای ہیں۔ انہوں نے مزید کہا "ہم ایسے مختلف لوگوں سے معاملہ کر رہے ہیں جن سے پہلے کبھی کسی نے معاملہ نہیں کیا۔ یہ لوگوں کا بالکل مختلف گروہ ہے... اور زیادہ عقل مند ہے"۔
ٹرمپ نے زور دے کر کہا کہ وہ "افق پر ایک معاہدہ" دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران "احترام کے پیش نظر" آنے والے دنوں میں آبنائے ہرمز سے تیل کے بیس ٹینکرز گزرنے کی اجازت دے گا، جہاں سے عالمی ایندھن اور مائع گیس کی پیداوار کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
إعلام إيراني يؤكد شن هجوم على المنطقة الصناعية في حيفا
— العربية (@AlArabiya) March 30, 2026
الإذاعة الإسرائيلية: 10 صواريخ استهدفت حيفا وخليجها pic.twitter.com/bqATsWrA0q
ایران کی جانب سے آبنائے کی بندش قیمتوں میں بڑے اضافے کا سبب بنی۔
پیر کی صبح برینٹ خام تیل کی قیمت 115 ڈالر کی سطح پر تھی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ دوبارہ سو ڈالر کی سطح سے تجاوز کر گیا۔
ٹرمپ ایران میں زمین پر امریکی افواج کی تعیناتی کے امکان کے بارے میں ابہام برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
جمعے کو خطے میں ایک امریکی بحری حملہ آور جہاز پہنچا جس پر 3500 فوجی سوار ہیں۔
امریکی ارادوں میں اس غیر واضح صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے ایرانی مجلس شوریٰ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا "دشمن علانیہ طور پر مذاکرات اور مکالمے کے پیغامات بھیج رہا ہے، جبکہ خفیہ طور پر زمینی حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے"۔
انہوں نے مزید کہا "ہمارے لوگ زمین پر امریکی فوجیوں کی آمد کے منتظر ہیں تاکہ انہیں جلا دیں اور خطے میں ان کے اتحادیوں کو ایک ہی بار ہمیشہ کے لیے سزا دیں"۔
نظریں خاص طور پر جزیرہ خارگ پر جمی ہیں جو خلیج کے شمال میں واقع ہے اور واشنگٹن دو ہفتے قبل اسے نشانہ بنا چکا ہے۔ امریکی بینک "جے پی مورگن" کے مطابق یہ جزیرہ ایران کے سب سے بڑے آئل ٹرمینل پر مشتمل ہے اور یہاں سے ایران کے تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمد ہوتی ہے۔
ٹرمپ نے اتوار کی شام شائع ہونے والے فنانشل ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں خبردار کیا کہ امریکی فوج "انتہائی آسانی" سے اس جزیرے پر قبضہ کر سکتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایرانی "تیل لینے" کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔
اس تناظر میں فرانس پیر کے روز "گروپ سیون" (G-7) کا ایک اجلاس منعقد کر رہا ہے جس میں وزرائے خزانہ، توانائی اور مرکزی بینکوں کے سربراہان شریک ہوں گے۔
دوسری جانب اسرائیل نے رات کے وقت ایک نیا بجٹ منظور کیا جس میں دفاعی اخراجات میں بھاری اضافہ شامل ہے۔
اس بجٹ میں تقریباً نو ارب یورو کا اضافہ شامل ہے، جس سے مجموعی رقم تقریباً 40 ارب تک پہنچ گئی ہے، جو کہ 2023 کے بجٹ سے دوگنا زیادہ ہے۔
ایران اپنی سرزمین پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں خلیج میں امریکی اور اقتصادی مفادات کے خلاف حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
کویت میں وزارت بجلی نے پیر کو اعلان کیا کہ ایک ایرانی حملے میں بجلی گھر کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ایک بھارتی شہری ہلاک اور مادی نقصانات ہوئے۔ سعودی عرب نے اپنی حدود کی طرف آنے والے پانچ میزائلوں کو روکنے کا اعلان کیا۔
اس کے ساتھ ساتھ، جنگ روکنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو رہی ہیں جو اپنے دوسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے۔
کویت کی نیوز ایجنسی کے مطابق پیر کے روز ایک وڈیو اجلاس ہونا طے ہے جس میں خلیجی ممالک، روس اور اردن کے نمائندے "ایرانی حملوں کے اثرات" پر غور کریں گے۔
پاکستان نے اتوار کو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی اور ان کے درمیان جنگ روکنے کے لیے "با مقصد مذاکرات" کی میزبانی کے لیے اپنی آمادگی کی تصدیق کی اور اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ اس کی امن کوششوں کے لیے اقوام متحدہ اور چین سمیت عالمی حمایت بڑھ رہی ہے۔
لبنان میں جو جنگ کا دوسرا بڑا محاذ ہے، جنوب میں ایک گولہ پھٹنے سے اقوام متحدہ کے امن دستے کا ایک انڈونیشیائی فوجی ہلاک ہو گیا۔
پیر کی صبح ایک فضائی حملے میں بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے (ضاحیہ) کو نشانہ بنایا گیا جو حزب اللہ تنظیم کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ اسے فرانس پریس نیوز ایجنسی کی براہ راست نشریات میں دکھایا گیا۔ یہ حملہ اسرائیلی فوج کی جانب سے وہاں کے سات اہم محلوں کے مکینوں کو دی گئی تنبیہ کے بعد کیا گیا۔