چین: ایران کے معاملے پر پاکستان کے ساتھ تعاون بہتر بنائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

چین اور پاکستان ایران کے حوالے سے تعاون "مضبوط" کریں گے، بیجنگ کی وزارتِ خارجہ نے منگل کو کہا جب اسلام آباد کے سینئر حکام نے چینی دارالحکومت کا دورہ کیا۔

ایشیائی ہمسایہ ممالک نے تنازعات کو بڑھنے سے روکنے کے لیے شرقِ اوسط میں ثالثی کی کوشش کی ہے اور اسلام آباد نے کہا ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان "بامعنی مذاکرات" کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔

پاکستانی وزیرِ خارجہ اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار بیجنگ کا دورہ کر رہے ہیں جہاں وہ اعلیٰ چینی سفارت کار وانگ یی سے بین الاقوامی اور دوطرفہ امور پر گفتگو کے لیے ملاقات کریں گے۔

ترجمان وزارتِ خارجہ ماؤ ننگ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا، "دونوں وزراء خارجہ ایران کی صورتِ حال پر تزویراتی رابطے اور ہم آہنگی کو مستحکم اور امن کی وکالت کے لیے نئی کوششیں کریں گے۔

ڈار نے اس دورے سے قبل اتوار کو شرقِ اوسط جنگ کے خاتمے کی کوششوں سے متعلق سعودی عرب، مصر اور ترکی سے اپنے ہم منصبوں کی میزبانی کی۔

جنگ کے اثرات بشمول آبنائے ہرمز کے ذریعے سمندری ٹریفک کی بندش کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے۔

چین ایران کا کلیدی شراکت دار ہے لیکن اس نے تہران کی فوجی مدد کا اعلان نہیں کیا بلکہ اس کی بجائے وہ بار بار جنگ بندی کا مطالبہ کر رہا ہو۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے ایک گمنام ذریعے کے مطابق تہران نے واشنگٹن سے باضابطہ مذاکرات کا اعتراف کرنے سے انکار کر دیا ہے لیکن جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ کے 15 نکاتی منصوبے کا اسلام آباد کے ذریعے جواب دیا ہے۔

پاکستان خطے میں چین کے قریبی شراکت داروں میں سے ایک ہے لیکن بیجنگ نے اسلام آباد کے افغانستان کے ساتھ تنازع میں "سکون اور تحمل" کا مطالبہ کیا ہے۔

بیجنگ کی وزارتِ خارجہ نے رواں ماہ کہا کہ چین کے خصوصی ایلچی نے ایک ہفتے تک دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں