حوثی جماعت نے ہفتہ کی رات اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ایک فوجی کارروائی کی، جس میں اسرائیل کے اندر موجود مقامات کو نشانہ بنایا گیا، یہ خبر رائٹرز کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔
حوثیوں نے میزائل اور فضائی حملہ کیا، جس میں تل ابیب ایئرپورٹ اور اسرائیل کے فوجی ٹھکانوں کو ہدف بنایا گیا۔
یہ اس نوعیت کی پانچویں کارروائی ہے، جب سے 28 مارچ کو جماعت نے ایران پر جاری امریکی و اسرائیلی حملوں کے تناظر میں جنگ میں براہِ راست شامل ہونے کا اعلان کیا تھا۔
حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ایک بیان میں کہا کہ یہ سرحد پار کارروائی ایران اور لبنان کی حزب اللہ کے ساتھ مل کر کی گئی۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کے مطابق حوثیوں کا داغا گیا میزائل اسرائیل کے اندر کھلے علاقوں میں گرا۔
اسرائیلی فوج نے بھی تصدیق کی کہ یمن سے ایک میزائل داغا گیا ہے۔
فوج کے مختصر بیان میں کہا گیا کہ یمن سے اسرائیل کی جانب داغے گئے میزائل کی نشاندہی کی گئی ہے اور مزید کہا کہ فضائی دفاعی نظام اس خطرے کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
اس سے قبل گزشتہ جمعرات کو بھی حوثیوں نے اسرائیل پر چوتھا حملہ کیا تھا۔ حوثیوں کے ترجمان نے ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے مقبوضہ یافا کے علاقے میں اسرائیلی اہم اہداف کو نشانہ بنایا۔
اس سے ایک جمعہ قبل حوثی جماعت نے دھمکی دی تھی کہ وہ جنگ میں شامل ہو سکتی ہے اور واضح کیا تھا کہ اگر ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کوئی نیا اتحاد بنا یا بحیرہ احمر کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں استعمال کیا گیا تو وہ براہِ راست مداخلت کریں گے۔
اس دھمکی کے اگلے دن اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار یمن سے اسرائیل کی طرف میزائل داغا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے پیر کے روز یہ بھی اعلان کیا تھا کہ اس نے یمن سے داغے گئے دو ڈرون طیاروں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔
اس سے پہلے بھی حوثی اسرائیل اور بحیرہ احمر و بحیرہ عرب میں جہازوں پر حملے کرتے رہے ہیں، جو غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کے دوران فلسطینیوں کی حمایت میں کیے گئے۔ ان حملوں کے باعث بحیرہ احمر اور باب المندب کے راستے بحری آمد و رفت شدید متاثر ہوئی ہے۔