سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان علاقائی جنگ پر مشاورت، سفارتی کوششیں تیز
اسحاق ڈار کا اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان کے ساتھ خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار خطے کی صورت حال پر ٹیلیفون پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
اس گفتگو کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے علاقائی حالات کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا اور اس سلسلے میں مسلسل ہم آہنگی اور مشاورت کی اہمیت پر زور دیا۔
پاکستان نے ایک ایسے وقت میں خطے کی موجودہ صورتحال پر سعودی عرب کے ساتھ اپنی بات چیت کا عمل دوبارہ شروع کیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ اپنے چھٹے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ اس جنگ نے توانائی کے شعبے اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، جبکہ خلیجی ممالک کے خلاف معاندانہ حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
پاکستان جو امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں اب ایک ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان کے ساتھ خطے کی حالیہ پیش رفت پر تفصیلی بات چیت کی ہے۔
گذشتہ دنوں کے دوران بھی سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کو پاکستانی نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کا ٹیلی فون موصول ہوا تھا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اس ٹیلی فونک رابطے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کا جائزہ لیا گیا اور تازہ ترین حالات سمیت اس حوالے سے مسلسل مشاورت اور کوآرڈینیشن جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
یہ رابطہ اسلام آباد میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے چار فریقی اجلاس کے چند روز بعد ہوا ہے، جس میں مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی صورتحال پر غور کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ اس وقت پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں ایک ممکنہ ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔