آبنائے ہرمز کھولنے کے حوالے سے لندن اگلے ہفتے اجلاس کی میزبانی کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

تیاریوں سے باخبر ایک برطانوی عہدیدار کے مطابق برطانیہ اگلے ہفتے امریکہ کے علاوہ دیگر اتحادیوں کی شرکت کے ساتھ بین الاقوامی مذاکرات کے ایک نئے دور کی میزبانی کرے گا تاکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور اس میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

عہدیدار نے واضح کیا کہ 41 ممالک کے نمائندے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان کے بعد پہلی بار ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات کا مقصد ایک بین الاقوامی ردعمل کو مربوط کرنا ہے تاکہ اس اہم سمندری گزرگاہ کے ذریعے تجارت کے مسلسل بہاؤ کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ بات ویب سائٹ "پولیٹیکو" نے نقل کی ہے۔

نیٹو پر امریکی دباؤ

یہ ملاقاتیں نیٹو اتحادیوں پر امریکہ کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے درمیان ہو رہی ہیں کہ وہ جہاز رانی کے تحفظ کے لیے عملی منصوبے پیش کریں۔ باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ ٹرمپ نے اتحاد کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے کے ساتھ ملاقات کے دوران جلد از جلد ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اپریل کے اوائل میں وزرائے خارجہ کی سطح پر ہونے والے پہلے دور کے برعکس آئندہ ملاقاتیں سیاسی ڈائریکٹرز کی سطح پر ہوں گی۔ ملاقاتوں سے قبل کثیر قومی ورکنگ گروپس کے اجلاس ہوں گے تاکہ انتظامی تجاویز کو حتمی شکل دی جا سکے۔

توقع ہے کہ مذاکرات سیاسی اور اقتصادی اقدامات پر توجہ مرکوز کریں گے جن میں پابندیاں عائد کرنا اور عالمی سمندری تنظیم ( انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن) کے ساتھ ہم آہنگی شامل ہے تاکہ خلیج میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو چھڑانے میں مدد مل سکے۔

بحری جہازوں پر فیس کا نفاذ

لندن نے آبنائے میں بحری جہازوں پر ٹرانزٹ فیس عائد کرنے کو مسترد کرنے پر زور دیا ہے۔ اس آبنائے سے دنیا کی تیل اور گیس کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔

لندن نے خبردار کیا ہے کہ ایسی فیسوں کی منظوری دیگر آبی گزرگاہوں میں بھی اسی طرح کی مثالیں قائم کر سکتی ہے۔ ٹرمپ نے اس سے قبل ٹینکروں کے گزرنے پر فیس لگانے کا خیال پیش کیا تھا تاہم بین الاقوامی تنقید کے بعد وہ جزوی طور پر اس سے پیچھے ہٹ گئے اور ایران سے اس قسم کے کسی بھی اقدام کو روکنے کا مطالبہ کیا۔

برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے ٹرمپ کو ملاقات کے منصوبوں سے آگاہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اتحاد سیاسی اور سفارتی راستوں پر کام کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جہازوں کے محفوظ گزرنے کو یقینی بنانے کے لیے فوجی اور لاجسٹک اختیارات کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں