وزیراعظم کی امیرِ قطر سے ملاقات، دفاع اور توانائی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

قطر میں وزیراعظم کا شاندار استقبال، جنگی طیاروں کی فضائی سلامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

وزیر اعظم شہباز شریف اپنے سہ ملکی دورے کے سلسلے میں جمعرات کو قطر پہنچے، جہاں انہوں نے امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی صورت حال اور دفاعی تعاون سمیت دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان امیری دیوان میں ملاقات ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی جس میں ’دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کی صورت حال سمیت علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔‘

وزیر اعظم نے قطر اور دیگر ممالک پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے قطری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا، جبکہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

امیر قطر نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی مکالمے کو فروغ دینے میں پاکستان کے اہم کردار کو سراہا، جو علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے نہایت اہم ہے۔

اس ملاقات میں قطر کی جانب سے وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم آل ثانی، امیری دیوان کے سربراہ عبداللہ بن محمد الخلیفی اور دیگر اعلیٰ حکام شریک تھے۔

پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیرِاعظم کے معاون خصوصی سید طارق فاطمی اور دیگر سینیئر حکام شامل تھے

اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کو قطر پہنچنے پر قطری فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے اپنے حصار میں ایئرپورٹ چھوڑا جس پر انہوں نے امیر قطر کا شکریہ ادا کیا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کے دورۂ قطر کے دوران ان کا شاندار اور منفرد انداز میں استقبال کیا گیا، جہاں قطری فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے اپنے حصار میں ایئرپورٹ چھوڑا۔ اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے اس پرتپاک اور باوقار استقبال پر قطری قیادت اور پائلٹس کا شکریہ ادا کیا۔

امیر قطر اور وزیراعظم پاکستان کے درمیان ایک علاحدہ ملاقات بھی ہوئی جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور موجودہ حالات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ ’دونوں ممالک کے درمیان خاص طور پر موجودہ حالات اور ان کے علاقائی سلامتی پر اثرات کے پیش نظر مسلسل رابطہ اور مشاورت جاری رہنی چاہیے۔‘

سرکاری ذرائع کے مطابق یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات اور باہمی احترام کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ وزیراعظم کے دورے کو دوطرفہ روابط کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں