اسرائیل کے ساتھ مذاکرات انتہائی اہم اور حساس مرحلے پر ہیں: لبنانی صدر

ریاست کا موقف جنگ بندی کو یقینی بنانا اور اسرائیلی انخلا کی ضمانت ہے: جوزف عون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنانی صدر جوزف عون نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات انتہائی نازک اور فیصلہ کن موڑ پر ہیں جن کے لیے متحد قومی ذمہ داری کا مظاہرہ ضروری ہے۔

بیروت سے آئے ہوئے ارکان پارلیمنٹ کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران عون نے کہا کہ ریاست کا موقف جنگ بندی کو مستقل کرنا، اسرائیلی انخلا کی ضمانت لینا اور سرحدوں سے متعلق حل طلب تنازعات کو نمٹانا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے پہلا قدم ہے، یہ ایک ایسا انتخاب ہے جسے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر حمایت حاصل ہے۔

صدر نے اشارہ کیا کہ اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد لبنانی فوج ایک بنیادی کردار ادا کرے گی اور جنوبی لبنان کے رہائشیوں کو ان کے دیہات اور قصبوں میں واپسی کے بعد اس بات کا یقین دلائے گی کہ فوج اور جائز سکیورٹی فورسز کے علاوہ وہاں کوئی مسلح قوت موجود نہیں ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لبنان آج ایک نئی حقیقت کے سامنے ہے جہاں اسے عرب اور بین الاقوامی حمایت حاصل ہے۔ یہ ایک ایسا موقع ہے جو دوبارہ نہیں ملے گا اور اسے ہرگز ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

یاد رہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ جمعرات کی شام عمل میں آ گیا ہے۔ یہ دس دن کی جنگ بندی پر مشتمل ہے جس میں حزب اللہ بھی شامل ہے اور یہ چھ نکات پر مبنی معاہدے کے تحت طے پائی ہے۔

جنگ بندی کے نفاذ کے فوراً بعد اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائی ادرعی نے کہا کہ اسرائیلی فوج جنگ بندی کے بعد بھی جنوبی لبنان میں اپنے ٹھکانوں پر تعینات رہے گی تاکہ حزب اللہ کی سرگرمیوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ان کے بہ قول انہوں نے لبنانی شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ اگلی اطلاع تک دریائے لیطانی کے جنوب میں منتقل نہ ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں