لبنانی صدر جوزف عون نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات انتہائی نازک اور فیصلہ کن موڑ پر ہیں جن کے لیے متحد قومی ذمہ داری کا مظاہرہ ضروری ہے۔
بیروت سے آئے ہوئے ارکان پارلیمنٹ کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران عون نے کہا کہ ریاست کا موقف جنگ بندی کو مستقل کرنا، اسرائیلی انخلا کی ضمانت لینا اور سرحدوں سے متعلق حل طلب تنازعات کو نمٹانا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے پہلا قدم ہے، یہ ایک ایسا انتخاب ہے جسے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر حمایت حاصل ہے۔
صدر نے اشارہ کیا کہ اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد لبنانی فوج ایک بنیادی کردار ادا کرے گی اور جنوبی لبنان کے رہائشیوں کو ان کے دیہات اور قصبوں میں واپسی کے بعد اس بات کا یقین دلائے گی کہ فوج اور جائز سکیورٹی فورسز کے علاوہ وہاں کوئی مسلح قوت موجود نہیں ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لبنان آج ایک نئی حقیقت کے سامنے ہے جہاں اسے عرب اور بین الاقوامی حمایت حاصل ہے۔ یہ ایک ایسا موقع ہے جو دوبارہ نہیں ملے گا اور اسے ہرگز ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
یاد رہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ جمعرات کی شام عمل میں آ گیا ہے۔ یہ دس دن کی جنگ بندی پر مشتمل ہے جس میں حزب اللہ بھی شامل ہے اور یہ چھ نکات پر مبنی معاہدے کے تحت طے پائی ہے۔
جنگ بندی کے نفاذ کے فوراً بعد اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائی ادرعی نے کہا کہ اسرائیلی فوج جنگ بندی کے بعد بھی جنوبی لبنان میں اپنے ٹھکانوں پر تعینات رہے گی تاکہ حزب اللہ کی سرگرمیوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ان کے بہ قول انہوں نے لبنانی شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ اگلی اطلاع تک دریائے لیطانی کے جنوب میں منتقل نہ ہوں۔
-
فرانسیسی صدر میکرون کو لبنان اسرائیل جنگ بندی کی کمزوری پر ’تشویش‘
"جاری فوجی کارروائیوں کے باعث پہلے ہی جنگ بندی متأثر ہو سکتی ہے"
بين الاقوامى -
سربراہ اقوامِ متحدہ کا اسرائیل - لبنان جنگ بندی کے 'احترام' پر زور
سربراہ اقوامِ متحدہ انتونیو گوٹیریس نے جمعرات کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان اعلان ...
مشرق وسطی -
ٹرمپ کی جانب سے لبنان میں جنگ بندی کا اعلان ... سعودی عرب کا خیر مقدم
مملکت نے ریاست کی خود مختاری کی بحالی اور اسلحہ صرف ریاست کے ہاتھ میں رکھنے کے ...
بين الاقوامى