لبنان میں وسیع پیمانے پر تباہی، ہزاروں گھر متاثر
جنگ بندی کے تین دنوں کے دوران 428 رہائشی یونٹس مکمل طور پر تباہ جبکہ 50 کو نقصان پہنچا۔
لبنان کے قومی سائنسی تحقیقاتی مرکز کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں چھ ہفتوں پر مشتمل جنگ کے دوران 50 ہزار سے زائد رہائشی یونٹس کو نقصان یا تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ بات ایک عہدیدار نے بدھ کے روز بیان کی۔
قومی کونسل برائے سائنسی تحقیق کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر شاذی عبداللہ نے فرانسیسی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں بتایا کہ تقریباً 46 دنوں کے دوران 17 ہزار 756 رہائشی یونٹس مکمل طور پر تباہ جبکہ 32 ہزار 668 کو جزوی نقصان پہنچا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ پہلے اعداد و شمار میں مجموعی تعداد 62 ہزار بتائی گئی تھی، تاہم بعد میں شماریاتی غلطی کی نشاندہی کی گئی۔
اگرچہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب سے نافذ ہے، اس کے باوجود جنوبی لبنان میں تعینات اسرائیلی افواج کی جانب سے بعض علاقوں میں مسماری اور دھماکوں کا سلسلہ جاری ہے۔
لبنانی حکام اور عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فورسز شہریوں کو سرحدی دیہات میں واپس جانے سے بھی روک رہی ہیں۔جنگ مارچ کے آغاز میں شروع ہوئی، میں اب تک 2400 سے زائد افراد ہلاک اور دس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
ڈاکٹر عبداللہ کے مطابق جنگ بندی کے ابتدائی تین دنوں میں بھی 428 رہائشی یونٹس مکمل طور پر تباہ اور 50 کو نقصان پہنچا۔ لبنان اس جنگ بندی میں ایک ماہ کی توسیع کا مطالبہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ادھر واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے سفیروں کے درمیان ایک اہم ملاقات بھی متوقع ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہ راست سفارتی رابطہ سمجھا جا رہا ہے۔
لبنانی حکام کے مطابق بیروت جنگ بندی میں توسیع اسرائیلی کارروائیوں کے خاتمے اور متاثرہ علاقوں میں تباہی روکنے کا مطالبہ کرے گا۔