لبنان کی مدد کی کوششوں پر ہم سعودی عرب کے شکر گزار ہیں: لبنانی سپیکر

نبیہ بری کا شہزادہ فیصل بن فرحان کے ساتھ خطے کی صورتحال میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد کی توقع کے ساتھ لبنانی پارلیمنٹ کے سپیکر نبیہ بری نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے ساتھ لبنان اور خطے کی صورتحال میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

kنبیہ بری نے وزیر خارجہ کے ساتھ ایک ٹیلی فونک گفتگو میں لبنان پر اسرائیلی جارحیت روکنے کے لیے مملکت کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔ پارلیمنٹ کے سپیکر کے دفتر نے بتایا کہ نبیہ بری نے تمام سطحوں پر لبنان کی مدد کرنے اور اس کی خودمختاری و سلامتی کے تحفظ کی حمایت میں سعودی عرب کی کوششوں کو قابل تعریف قرار دیا۔

سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ سپیکر پارلیمنٹ نے لبنان کی حمایت میں مملکت کے کردار کی تعریف کی۔ نبیہ بری نے شہزادہ فیصل بن فرحان کو طائف معاہدے سے متعلق لبنانی حکام کی وابستگی کا یقین دلایا۔ یہ اس نئے لبنانی دستور کی طرف اشارہ ہے جو 1989 میں طائف شہر میں ہونے والے ایک اجلاس کے نتیجے میں منظور ہوا تھا۔

لبنانی اسرائیلی مذاکرات

یہ رابطہ نبیہ بری کی جانب سے چند روز قبل اپنے مشیر علی حسن خلیل کو لبنانی معاملے پر بات چیت کرنے اور مملکت سعودی عرب کا شکریہ ادا کرنے کے لیے ریاض بھیجنے کے بعد ہوا ہے۔ یہ رابطہ اس وقت بھی سامنے آیا ہے جب لبنانی اور اسرائیلی مذاکرات کے دوسرے دور کے آغاز کی توقع ہے جس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی شریک ہوں گے۔ سعودی عرب ماضی میں بھی بارہا لبنانی ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے کی تصدیق کر چکا ہے اور اس نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے۔

یاد رہے لبنان 2024 سے اس تنازع کا حصہ ہے جو خطے میں بھڑک اٹھا تھا۔ تنازع کا آغاز پہلے 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے نتیجے میں ہوا جہاں حزب اللہ نے لبنانی محاذ کو غزہ کی حمایت میں کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ تصادم نومبر 2024 میں جنگ بندی کے معاہدے پر ختم ہوا تھا۔ تاہم جنگ دوبارہ اس وقت بھڑک اٹھی جب حزب اللہ نے گزشتہ 2 مارچ 2026 کو سابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کے انتقام میں اسرائیل کی طرف راکٹ اور ڈرون داغے تھے۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے اور دارالحکومت کے دیگر علاقوں سمیت جنوب اور بقاع پر شدید بمباری شروع کردی۔ اس کے علاوہ اسرائیلی افواج درجنوں سرحدی قصبوں میں داخل ہوگئیں اور بہت سے دیہاتوں کو تباہ کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں