آسٹریلیا نے شامی کیمپ میں موجود شہریوں کی وطن واپسی میں مدد سے انکار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

آسٹریلیا نے ہفتے کے روز داعش کے مشتبہ دہشت گردوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی وطن واپسی میں مدد کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ پیش رفت اس اطلاع کے بعد ہوئی ہے کہ بعض آسٹریلوی خاندان شام میں ایک کیمپ سے وطن واپس جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

قومی نشریاتی ادارے اے بی سی نے کیمپ کے ڈائریکٹر کے حوالے سے کہا کہ چار آسٹریلوی خواتین اور ان کے نو بچے اور پوتے پوتیاں جمعہ کو شمال مشرقی شام میں روج کیمپ سے چلے گئے تھے۔

بتایا گیا کہ شامی افواج انہیں دمشق لے جا رہی تھیں تاکہ انہیں آسٹریلیا واپس جانے میں مدد دی جائے۔

ایک حکومتی ترجمان نے اے ایف پی کو ایک بیان میں کہا، "آسٹریلوی حکومت شام سے لوگوں کو واپس نہیں لے رہی اور نہ ہی لے گی۔"

ترجمان نے مزید کہا، "ہماری سکیورٹی ایجنسیاں شام کی صورتِ حال کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جائے کہ وہ آسٹریلیا واپسی کے خواہاں کسی بھی آسٹریلوی باشندے کے لیے تیار ہیں۔ اس گروہ کے لوگ یہ جان لیں کہ اگر انہوں نے کوئی جرم کیا ہے اور وہ آسٹریلیا واپس آتے ہیں تو انہیں قانون کی پوری طاقت کا سامنا کرنا ہو گا۔"

ترجمان نے کہا، حکومت کی "اہم ترین ترجیح" آسٹریلیوی باشندوں کی حفاظت اور آسٹریلیا کے قومی مفادات کا تحفظ ہے۔

یہ گروپ کیمپ میں موجود ان 34 آسٹریلوی باشندوں میں شامل ہے جو فروری میں وطن واپسی کی کوشش میں ناکام رہے تھے جو مبینہ طور پر شام کی حکومت سے رابطہ کاری کے مسئلے کی وجہ سے تھا۔

اس وقت وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے کہا تھا کہ حکومت انہیں کوئی مدد فراہم نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا تھا: "آپ کو اپنے اعمال کے نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔"

داعش کے ارکان کے خاندانوں کی واپسی آسٹریلیا میں متنازعہ ہے کیونکہ بعض سیاستدانوں نے خبردار کیا ہے کہ وہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

انسانی ہمدردی کے لیے کام کرنے والی تنظیم سیو دی چلڈرن آسٹریلیا نے 2023 میں روج کیمپ کی 11 خواتین اور 20 بچوں کی جانب سے وطن واپسی کے لیے مقدمہ دائر کیا تھا۔

لیکن وفاقی عدالت نے سیو دی چلڈرن کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ آسٹریلوی حکومت کو شام میں ان کی حراست پر اختیار نہیں تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں