امریکہ اور ایران کے درمیان دوسرے دور کے مذاکرات کے انعقاد کی پاکستانی کوششوں کے تسلسل کے دوران، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کے روز اسلام آباد میں پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات کی۔
اس ملاقات میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی، اسلام آباد میں ایران کے سفیر امیری مقدم، اور قانونی و بین الاقوامی امور کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی بھی شامل تھے۔
یہ بات ایران کے پاکستان میں سفارت خانے کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔
دوسری جانب ''العربیہ/الحدث ''کے ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام امریکی فریق کو ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی تازہ پیش رفت سے آگاہ کریں گے، اس کے بعد امریکی وفد کی آئندہ نقل و حرکت کا فیصلہ متوقع ہے۔
ایرانی ردِ عمل
ایرانی ذرائع کے مطابق وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے آرمی چیف کی جانب سے گزشتہ ہفتے تہران کے تین روزہ دورے کے دوران پیش کیے گئے تجاویز کا باضابطہ جواب اپنے ہمراہ لایا ہے۔
H.E. Dr Seyyed Abbas Araghchi, Honorable Foreign Minister calls on Field Marshal Seyed Asim Munir, NI(M), HJ, COAS & CDF pic.twitter.com/sihS0yB3NJ
— Embassy of IR Iran Pakistan (@IraninIslamabad) April 25, 2026
ان ذرائع کے مطابق یہ جواب جامع ہے اور تہران کے تمام تحفظات کو مدنظر رکھتا ہے، جیسا کہ سرکاری ٹی وی نے رپورٹ کیا۔
اسی ملاقات کے حوالے سے جو عراقچی اور جنرل عاصم منیر کے درمیان اسلام آباد میں ہوئی، رائٹرز نے تصاویر بھی جاری کی ہیں۔
دوسری جانب پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عراقچی اپنے ساتھ امریکی تجاویز کا جواب بھی لائے ہیں، جو اس سے قبل جنرل عاصم منیر کے تہران دورے کے دوران پہنچائی گئی تھیں، یہ بات ''ڈی پی اے'' کے حوالے سے بتائی گئی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب عراقچی نے اسلام آباد پہنچ کر جمعہ کی شام اپنے پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار سے ہوٹل سرینا میں ملاقات کی۔ یہی مقام تقریباً دو ہفتے قبل امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کا بھی مرکز رہا تھا۔
ویٹکوف اور کشنر
اسی دوران توقع ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو ویٹکوف اور جیرڈ کشنر جلد پاکستان کے دارالحکومت پہنچیں گے، تاکہ ایران کے ساتھ ایک نئے مذاکراتی دور کا آغاز کیا جا سکے، اگرچہ اب بھی براہِ راست بات چیت کے امکان پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق ویٹکوف اور کشنر ایرانی نمائندوں کے ساتھ ''براہِ راست مذاکرات'' کریں گے، تاہم ایرانی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات فی الحال زیرِ غور نہیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ شام ایک ممکنہ ایرانی پیشکش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تہران ایک ایسا منصوبہ پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو واشنگٹن کے مطالبات کو پورا کر سکے، تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں ابھی تک اس پیشکش کی تفصیلات معلوم نہیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ جن فریقین سے بات کر رہا ہے، وہ واضح نہیں کرنا چاہتے، لیکن اس وقت ذمہ دار افراد سے رابطہ جاری ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا، جس سے دوسرے مرحلے کے مذاکرات کے انعقاد پر سوالات اٹھنے لگے، جن کی تیاری پاکستان نے حالیہ ہفتوں میں شروع کی تھی۔
ایران اپنی بندرگاہوں پر 13 اپریل سے عائد امریکی ناکہ بندی کے خاتمے کا مطالبہ کر رہا ہے اور اسے 8 اپریل سے نافذ جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔
دوسری جانب امریکہ پابندیوں کے خاتمے کو کسی حتمی معاہدے سے مشروط کر رہا ہے اور خطے میں اپنی بحری موجودگی میں اضافہ کرتے ہوئے تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھی تعینات کر چکا ہے۔
-
پاکستان کی ثالثی کوششیں برقرار، مذاکرات کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں ہوا
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مذاکرات کے مستقبل کے بارے میں غیر ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب اور پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کی مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی اقدامات کی مذمت
سعودی عرب اور پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے جمعرات کو مقبوضہ بیت ...
مشرق وسطی -
امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کے محاصرے میں شامل ایک تباہ کن جنگی جہاز کی تصویر جاری کر دی
امریکی بحری ناکہ بندی کے تسلسل کے دوران امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان ...
بين الاقوامى