امریکہ ایران مذاکرات ناکام ہونے کی صورت ایران کے خلاف جنگی آپشن کھلی ہے: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سائر نے ایک بار پھر ایران کے خلاف جنگ کی دھمکی کی تجدید کی ہے اور کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ایران کے مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو ایران کو جنگ کا نشانہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا اسرائیل نے اس سلسلے میں اپنی فوجی آپشن کو کھلا رکھا ہے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ آج کل جنگ کی بجائے ایران کی بحری ناکہ بندی کر کے اسے معاشی اعتبار سے نقصان پہنچانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں اور اس دوران ایران کو بار بار مذاکرات کی طرف مائل کر رہے ہیں۔ اسرائیلی وزیر خارجہ کا یہ انٹرویو 'العربیہ' میں نشر کیا گیا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا 'اسرائیل سفارتی کوششوں کو موقع دینا چاہتا ہے اور یہ موقع اس وقت تک جاری رہے گا جب تک صدر ٹرمپ نے دوسرا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا۔' انہوں نے اس امر کو مسترد کیا کہ اسرائیل واشنگٹن پر اثر انداز ہوا جس کے نتیجے میں 28 فروری کو جنگ شروع ہوئی۔

گیڈون سائر نے کہا صدر ٹرمپ نے خود یہ کہا ہے کہ 'انہیں جنگ کی طرف اسرائیل نے نہیں کھینچا۔ آپ یہ کیسے سوچ سکتے ہیں کہ کوئی ہمیں جنگ میں کھینچ سکتا تھا۔' وزیر خارجہ نے کہا 'وہ ایک مضبوط رہنما ہیں اس لیے یہ فیصلہ انہوں نے خود کیا۔'

اسرائیلی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ و اسرائیل دونوں اس بات پر یکسو ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہییں کہ وہ زمین پر سب سے زیادہ انتہا پسند رجیم ہے۔ ان کا کہنا تھا اس مقصد کو پانے کے لیے ضروری ہے کہ ایران امریکی مطالبات کو تسلیم کرے حتیٰ کہ اپنا افزودہ کیا ہوا یورینیئم بھی اپنے ملک سے باہر منتقل کرنے پر آمادگی ظاہر کرے اور آئندہ کے لیے افزودگی روک دے۔

لبنان کی حزب اللہ کے بارے میں وزیر خارجہ نے کہا یہ ایرانی حمایت یافتہ ہیں اور لبنان کو جنگ میں دھکیلتی رہتی ہیں۔ تاکہ لبنانی حکومت کی مرضی کے برعکس ایرانی ہدایات پر عمل کر سکیں۔ حزب اللہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو کمزور کرنا چاہتی ہے۔ جبکہ میں اسرائیل کی طرف سے یہ بات دہرا کر کہتا ہوں کہ اسرائیل کو لبنان کے اندرونی علاقوں میں کارروائیاں کرنے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔ دس ہزار سے زائد راکٹ حزب اللہ نے اسرائیل کی طرف داغے ہیں۔

انہوں نے کہا 2 مارچ سے حزب اللہ موجودہ جنگ کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اسرائل اس صورتحال کو برداشت نہیں کر سکتا۔

اسرائیلی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا اسرائیل لبنان سے انخلا قبول کر سکتا ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ حزب اللہ اور اس طرح کے دیگر مسلح گروپوں کو ہتھیار رکھنے سے روکا جائے اور انہیں غیر مسلح کیا جائے۔ یہ کام لبنانی حکام کو پوری قوت سے کرنا چاہیے اور ہتھیار صرف لبنانی فوج کے پاس رہنے چاہییں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لبنان میں اسرائیلی فوجی موجودگی صرف حزب اللہ کو اسرائیل پر حملوں سے روکنے کے لیے ہے۔

حماس اور غزہ کے بارے میں سوال پر گیڈون سائر نے کہا اسرائیل نے ڈرامائی طور پر حماس کی طرف سے خطرے کو کم کر دیا ہے۔ اب حماس کے پاس ایسی فوجی قوت نہیں ہے کہ وہ ایرانی جنگ کا حصہ بن سکے جس طرح کہ حزب اللہ بن گئی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حماس کو مکمل غیر مسلح کرنے کے لیے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ جس کے تحت مصر اور حماس صدر ٹرمپ کے امن بورڈ کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل مسائل کے سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے۔ لیکن انہوں نے خبردار کیا سفارتی کوششوں کے علاوہ دیگر آپشنز بھی ہمارے سامنے رہیں گی اگر امریکہ و ایران کے مذاکرات ناکام ہوگئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں