واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور کا انعقاد آئندہ ہفتےمتوقع ہے، جس کے حوالے سے ایک اسرائیلی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ جنوبی لبنان سے انخلا اس وقت تک زیر غور نہیں ہو گا، جب تک حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے سے متعلق انتظامات طے نہیں پا جاتے۔
ذرائع کے مطابق جاری مذاکرات میں بنیادی توجہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے معاملے پر ہوگی، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازعات اور مستقبل کے ممکنہ معاہدے کے فریم ورک پر بھی بات چیت کی جائے گی، جیسا کہ i24 نیوز نے رپورٹ کیا ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ ان مشاورتوں کا مقصد سکیورٹی اور سیاسی سطح پر ممکنہ سمجھوتوں کا خاکہ تیار کرنا ہے، جبکہ لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
سیاسی ذرائع کے مطابق تیسرے دور کی مذاکراتی نشست میں دونوں جانب کے فوجی حکام بھی شریک ہوں گے، جن کا مقصد نقشوں اور زمینی سطح پر جنگ بندی میں توسیع سے متعلق امور پر بات کرنا ہے، جیسا کہ اسرائیلی نشریاتی ادارے نے رپورٹ کیا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور 14 اور 15 مئی کو منعقد ہوگا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل واشنگٹن میں سفیروں کی سطح پر ہونے والی ابتدائی بات چیت کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 17 اپریل سے جنگ بندی کے نفاذ کا اعلان کیا تھا، جسے بعد میں مزید تین ہفتوں کے لیے بڑھا دیا گیا تھا۔