تل ابیب میں تشو یش ''ٹرمپ کی بے زاری اور وِٹکوف پر عدم اعتماد کا خدشہ''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

اگرچہ حالیہ دنوں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی تازہ ترین تجویز کو مسترد کر دیا ہے، اس کے باوجود اسرائیل کو اس بات کا خدشہ لاحق ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی وقت عدم دلچسپی کا شکار ہو کر ایران کے ساتھ معاہدہ کر سکتے ہیں، جبکہ کئی بنیادی مسائل ابھی حل نہ ہوئے ہوں۔

اسرائیلی ذرائع کے مطابق اگر کوئی ایسا معاہدہ سامنے آتا ہے ،جس میں ایران کے جوہری پروگرام کو جزوی طور پر برقرار رکھا جائے اور بیلسٹک میزائل پروگرام یا خطے میں پراکسی گروپس کی حمایت جیسے اہم معاملات کو نظرانداز کیا جائے، تو اسرائیل اسے ایک نامکمل معاہدہ تصور کرے گا۔

آخری لمحے میں خراب معاہدے کا خدشہ

ایک اسرائیلی ذریعے نے بتایا ہے کہ تل ابیب کو اس بات پر تشویش ہے کہ صدر ٹرمپ مذاکرات سے اکتاہٹ محسوس کرتے ہوئے آخری لمحے میں کوئی ایسا معاہدہ کر سکتے ہیں جسے اسرائیل غیر تسلی بخش قرار دیتا ہے، جیسا کہ سی این این نے رپورٹ کیا ہے۔

امریکی حکام نے اسرائیل کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے مسئلے کو ضرور حل کیا جائے گا، تاہم اسرائیلی ذریعے کے مطابق بیلسٹک میزائل پروگرام اور ایران کے علاقائی پراکسی نیٹ ورک کو مذاکرات سے باہر رکھنا ایک بڑا مسئلہ ہے۔

اسرائیلی حکام کے مطابق اگر کوئی ایسا جزوی معاہدہ طے پاتا ہے جو ایران کی بنیادی عسکری صلاحیتوں کو نظرانداز کرے اور ساتھ ہی اس پر اقتصادی دباؤ کم کر دے، تو اس سے نہ صرف ایرانی نظام مضبوط ہو سکتا ہے بلکہ اسے نئی مالی گنجائش بھی مل سکتی ہے۔

ایک اور اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ حقیقی تشویش یہ ہے کہ ٹرمپ کوئی کمزور معاہدہ کر سکتے ہیں، اسی لیے اسرائیل ممکن حد تک اس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ ضرورت سے زیادہ دباؤ الٹا اثر ڈال سکتا ہے اور اسے جنگ پر اکسانے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

اس کے میزائل تباہ ہو چکے ہیں

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے کہا ہے کہ تہران اچھی طرح جانتا ہے کہ اس کی موجودہ صورتحال قابلِ برداشت نہیں رہی۔

ان کے مطابق ایران کے بیلسٹک میزائل تباہ کیے جا چکے ہیں، ان کی پیداوار کی تنصیبات ختم کر دی گئی ہیں، اس کے بحری بیڑے کو نقصان پہنچا ہے اور خطے میں اس کے اتحادی بھی کمزور ہو گئے ہیں، جن میں لبنان میں حزب اللہ، عراق میں مسلح گروہ اور غزہ میں حماس شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی بحری ناکہ بندی نے ایرانی بندرگاہوں کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں ایران کی معیشت دباؤ کا شکار ہے اور ملک کو روزانہ تقریباً 500 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، جیسا کہ سی این این نے رپورٹ کیا۔

اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم نے فروری میں یروشلم میں ایک خطاب کے دوران ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے کے لیے پانچ شرائط پیش کی تھیں:

افزودہ یورینیم کے تمام ذخائر کا خاتمہ۔

یورینیم افزودگی کی صلاحیت کا مکمل خاتمہ۔

بیلسٹک میزائل پروگرام کا حل۔

علاقائی پراکسی نیٹ ورک کا خاتمہ۔

اور سخت بین الاقوامی جوہری معائنہ۔

تاہم گزشتہ ہفتے ایک ویڈیو بیان میں نیتن یاہو نے ان نکات کو مختصر کرتے ہوئے صرف ایک بنیادی ہدف پر زور دیا کہ ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کو ختم کیا جائے اور افزودگی کی صلاحیت کو توڑا جائے، جبکہ میزائل پروگرام یا حزب اللہ اور حماس جیسے گروہوں کا ذکر نہیں کیا۔

ایک باخبر ذریعے کے مطابق اسرائیل اب یہ سمجھنے لگا ہے کہ میزائل اور پراکسی گروپس کا معاملہ مذاکرات کی میز سے باہر ہو چکا ہے، اسی لیے نیتن یاہو کی توجہ زیادہ تر یورینیم کے مسئلے پر مرکوز ہے، جسے وہ فوری خطرہ سمجھتا ہے۔

وِٹکوف اور کشنر پر عدم اعتماد

ایک ذریعے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم اپنی براہِ راست رابطہ کاری امریکی صدر سے رکھتے ہیں، کیونکہ وہ ان کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر پر مکمل اعتماد نہیں کرتے، جو ایران کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کر رہے ہیں۔

دوسری جانب واشنگٹن نے کہا ہے کہ وِٹکوف اور کشنر امریکی صدر کے مکمل اعتماد کے حامل ہیں اور ان کے مطابق دونوں نے کئی ''کامیابیاں'' حاصل کی ہیں، جن میں غزہ میں جنگ کے خاتمے کا معاملہ بھی شامل ہے۔

12 اپریل کو اسلام آباد میں وِٹکوف اور کشنر کی موجودگی بھی سامنے آئی، جیسا کہ رائٹرز کی تصویر میں دکھایا گیا۔اس دوران پاکستان، جو ثالثی کے کردار میں ہے، امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنے اور کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

ادھر ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں سب سے بڑا اختلاف جوہری پروگرام ہے۔ تہران چاہتا ہے کہ اس معاملے پر بات بعد میں ہو، جبکہ واشنگٹن کا اصرار ہے کہ ایران اپنا انتہائی افزودہ یورینیم بیرون ملک منتقل کرے اور اندرون ملک افزودگی مکمل طور پر ختم کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں