ایران نے ہمارا اعتماد ختم کردیا، ہرمز کو کھولنے کے لیے کوششیں کر رہے: خلیجی عہدیدار
ایران کو اعتماد بحال کرنے کے بوجھ کا سامنا ہے، ہمیں دوبارہ ابتدائی نقطہ پر لا کھڑا کیا: ڈاکٹر العویشق
خلیجی ممالک آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے اور بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کے تحفظ سے متعلق ایک قرارداد کا مسودہ دوبارہ پیش کرنے کے حوالے سے اپنی سرگرمیاں تیز کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ روس اور چین کو ویٹو پاور استعمال نہ کرنے اور امریکی۔ خلیجی مجوزہ مسودے کو منظور کرنے پر ان کی آمادگی کے لیے اپنی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔ اس مسودے میں ایران سے بحری جہازوں پر حملے روکنے اور بحری گزرگاہوں میں رکاوٹ نہ ڈالنے کا کہا گیا ہے اسی طرح جہاز رانی کی آزادی کو متاثر کرنے کی کسی بھی کوشش کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ بات ریاض میں ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے ایک خلیجی عہدیدار نے بتائی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کو خلیج تعاون کونسل کے ملکوں کا اعتماد بحال کرنے کے بوجھ کا سامنا ہے۔
خلیج تعاون کونسل میں سیاسی اور مذاکراتی امور کے اسسٹنٹ سکرٹری جنرل ڈاکٹر عبدالعزیز العویشق نے انکشاف کیا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے حوالے سے امریکہ اور خلیجی ملکوں کی طرف سے پیش کردہ قرارداد کے مسودے پر "روسی ۔ چینی ویٹو" کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اندر خلیجی ممالک کی جانب سے نئی سرگرمیاں شروع کی گئی ہیں تاکہ ایک ایسے مسودے کو منظور کرایا جا سکے جو ان تمام اقدامات کے خلاف تدابیر نافذ کرے جو جہاز رانی کے حقوق اور آزادیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری گزرگاہوں یا جہاز رانی کی آزادی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
دوسری طرف ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ اب مزید جہازوں کو ان قانونی پروٹوکولز کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے رہی ہے جو ایران نے وضع کیے ہیں۔ ایران نے اپنے خلاف فوجی مہم کو روکنے کی کوشش میں اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جنگ کے آغاز سے ہی اس اہم گزرگاہ کو عملی طور پر بند کر رکھا تھا۔
اس کے برعکس خلیجی ممالک بین الاقوامی قانون کے مطابق بحری جہاز رانی کی سلامتی کے تحفظ اور بین الاقوامی تجارت کے محفوظ اور مسلسل بہاؤ کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دے رہے اور بنیادی اشیاء، طبی سامان اور انسانی امداد کی ترسیل میں رکاوٹ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی اور اقتصادی اثرات کے بارے میں خبردار کر رہے ہیں۔
ہرمز کی بندش بڑی غلطی
خلیجی عہدیدار ڈاکٹر عبدالعزیز العویشق سے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے ریاض میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں ڈاکٹر العویشق نے کہا ایران نے امریکہ کے ساتھ اپنے مذاکرات میں آبنائے ہرمز کو بطور دباؤ استعمال کر کے ایک بڑی غلطی کی ہے کیونکہ یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی کل تیل کی کھپت کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ ایرانی طریقہ کار اس آبنائے سے گزرنے والی ٹریفک کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ڈاکٹر العویشق نے اس بات پر زور دیا کہ اس آبنائے کو ایک کھلا اور محفوظ بین الاقوامی بحری راستہ رہنا چاہیے۔
خلیجی کوششیں
سیاسی اور مذاکراتی امور کے اسسٹنٹ سکرٹری جنرل نے مزید کہا آبنائے ہرمز کی بندش کے معاملے کو امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کی حقیقت سے الگ کر کے دیکھا جانا چاہیے، خلیج تعاون کونسل کے ممالک اس وقت روسی- چینی ویٹو کی وجہ سے پہلی بار مسودہ منظور ہونے میں ناکامی کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک بار پھر کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں۔ ہم اب بھی ماسکو اور بیجنگ کو ویٹو استعمال نہ کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ ایک مشکل چیلنج ہے۔ تاہم ہمیں اس معاملے میں کامیابی کی امید ہے، ہم اب بھی قرارداد کے مسودے میں استعمال ہونے والی عبارات پر بحث کے مرحلے میں ہیں تاکہ اس اصول کو تسلیم کرایا جا سکے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو تشدد، ٹیکسوں کے نفاذ یا کسی دوسرے طریقے کے تابع نہیں ہونا چاہیے۔
مذاکرات کا جمود
اسی تناظر میں پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکرات کے راستے میں تعطل، ایرانی شرائط اور جوابی کارروائی کے اختیارات پر مبنی امریکی انکار کے باعث ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ جنگ شروع ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں کیونکہ اسرائیلی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے سفارتی راستہ ناکام ہونے کی صورت میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے گرین سگنل دینے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔
ان پیش رفتوں کے سامنے خلیج تعاون کونسل کے ممالک آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے اور اس میں جہاز رانی کی آزادی کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کرنے کے لیے اپنے موقف اور اقدامات کو اجتماعی اور مضبوط طریقے سے مربوط رکھ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ موجودہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سیاسی اور سکیورٹی روابط کو مضبوط کر رہے ہیں جو علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔
ایران اور اعتماد کے امتحانات
ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی فوجی مہم کے آغاز سے ہی تہران نے خلیجی ممالک کے خلاف اپنے میزائل اور ڈرون حملوں کا تقریباً 85 فیصد حصہ داغ دیا ہے جو جاری تنازع کا حصہ نہیں ہیں۔ انہوں نے نمایاں سفارتی کوششوں کے ذریعے تنازع کو پیدا ہونے سے روکنے کی بھی کوشش کی جس نے تہران اور کونسل کے ممالک کے درمیان اعتماد میں دراڑ ڈال دی۔ خلیج تعاون کونسل میں سیاسی امور کے اسسٹنٹ سکرٹری جنرل عبدالعزیز العویشق نے کہا کہ خلیجی ممالک کے خلاف ایرانی حملوں نے ہمارا اعتماد ختم کر دیا اور ہمیں دوبارہ ابتدائی نقطہ پر لا کھڑا کیا ہے۔
ڈاکٹر العویشق کہتے ہیں کہ جنگ سے پہلے، خلیجی ممالک نے ایران کے ساتھ اپنے رابطے برقرار رکھے اور ہمیں امید تھی کہ خلیج ۔ ایران تعلقات کے لیے ایک نئی بنیاد دستیاب ہوگی تاہم خلیجی ممالک کے خلاف ایرانی حملے جو اسرائیل کے خلاف ان کی کارروائیوں سے کئی گنا زیادہ ہیں، تہران کے لیے ہمارے ساتھ مفاہمت کی خلاف ورزی کے بعد اعتماد کے پُل دوبارہ بنانے کا بوجھ ڈال رہے ہیں۔ تاہم وہ مستقبل میں ایران کے ساتھ ایک ایسے معاہدے تک پہنچنے کی امید رکھتے ہیں جو تین اہم مسائل کو حل کرے۔ یہ تین مسائل جوہری پروگرام ، بیلسٹک میزائل اور خطے میں ایران کی مداخلت کے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جغرافیہ ایران کے ساتھ نمٹنے پر مجبور کرتا ہے، چاہے ہم چاہیں یا نہ چاہیں۔
خلیجی ممالک کے خلاف ایرانی حملوں اور آبنائے ہرمز کی بندش نے بھی مبصرین کے مطابق مشترکہ خلیجی عمل کے فریم ورک میں ایک نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے کیونکہ کونسل کے ممالک تمام معاشی اور ترقیاتی شعبوں میں یکجہتی کو بڑھا کر مشترکہ کوششوں کو دوگنا کر رہے ہیں اور دفاعی اختیارات کو تیز کر رہے ہیں ۔ ایسا متحدہ فوجی کمانڈ نے کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے کو مضبوط بنانا، سکیورٹی اور انٹیلی جنس کی سطح کو بلند کرنا اور مشترکہ فضائی دفاع کی تکمیل کے لیے کام جاری رکھنا بھی ان کوششوں کا حصہ ہے۔ خلیجی ممالک خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک قبل از وقت انتباہی نظام قائم کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔