البوسعیدی اور عراقچی کا بحری جہاز رانی کی آزادی اور سلامتی کے ساتھ بحالی کی اہمیت پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکہ اور ایران کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے حل تک پہنچنے کی خاطر پاکستانی کوششوں کے جاری رہنے کے بیچ، عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی نے آج ہفتے کے روز اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے ساتھ ایک ٹیلی فونک گفتگو میں بحری جہاز رانی کی آزادی اور سلامتی کے ساتھ بحالی کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

دونوں نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات کے عمل پر بھی بات چیت کی، اس کے ساتھ ساتھ خطے کی تازہ ترین صورت حال پر نقطہ ہائے نظر کا تبادلہ کیا۔

اس دوران وہ کوششیں بھی زیر بحث آئیں جو ایسے سیاسی طریقوں کو اپنانے کے لیے کی جا رہی ہیں جو اختلافی نکات کو متوازن اور منصفانہ انداز میں حل کرنے میں مدد گار ثابت ہوں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب قطر کے وزیر خارجہ محمد بن عبد الرحمن بن جاسم آل ثانی نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز کو "پریشر کارڈ" کے طور پر استعمال کرنا بحران کو مزید گہرا کرنے کا سبب بنے گا۔

قطری وزارت خارجہ کے مطابق قطری وزیر نے آج ہفتے کے روز ٹیلی فونک گفتگو کے دوران اس بات پر بھی زور دیا کہ ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی ایک راسخ اصول ہے جو سمجھوتے کے قابل نہیں ہے۔

علاوہ ازیں انھوں نے پائیدار امن کے حصول کے لیے ثالثی کی کوششوں کا مثبت جواب دینے کی ضرورت کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ دوحہ جنگ کا خاتمہ کرنے والے ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر تہران کا دورہ مکمل کر کے آج وطن واپس روانہ ہو گئے۔ تہران میں انہوں نے گذشتہ روز شام کو اور رات دیر گئے تک امن کے حصول کے طریقوں پر تبادلہ خیال کے لیے عراقچی سے ملاقات کی تھی۔

واضح رہے کہ تہران اب بھی اس بات پر اصرار کر رہا ہے کہ اعلیٰ افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل نہ کیا جائے اور وہ جنگ کے خاتمے کے بعد بھی "آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول اور انتظام" کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ امریکی پابندیوں کے خاتمے اور بیرون ملک اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی کا بھی خواہاں ہے۔

دوسری طرف امریکی موقف ایران کے اندر افزودہ یورینیم رکھنے یا ہرمز میں جہاز رانی پر کوئی بھی پابندی عائد کرنے کو مسترد کرنے پر برقرار ہے۔ یہ ایک ایسی اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا بھر کے تیل اور گیس کی ترسیئل کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں