امریکہ اور ایران کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے حل تک پہنچنے کی خاطر پاکستانی کوششوں کے جاری رہنے کے بیچ، عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی نے آج ہفتے کے روز اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے ساتھ ایک ٹیلی فونک گفتگو میں بحری جہاز رانی کی آزادی اور سلامتی کے ساتھ بحالی کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
دونوں نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات کے عمل پر بھی بات چیت کی، اس کے ساتھ ساتھ خطے کی تازہ ترین صورت حال پر نقطہ ہائے نظر کا تبادلہ کیا۔
اس دوران وہ کوششیں بھی زیر بحث آئیں جو ایسے سیاسی طریقوں کو اپنانے کے لیے کی جا رہی ہیں جو اختلافی نکات کو متوازن اور منصفانہ انداز میں حل کرنے میں مدد گار ثابت ہوں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب قطر کے وزیر خارجہ محمد بن عبد الرحمن بن جاسم آل ثانی نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز کو "پریشر کارڈ" کے طور پر استعمال کرنا بحران کو مزید گہرا کرنے کا سبب بنے گا۔
قطری وزارت خارجہ کے مطابق قطری وزیر نے آج ہفتے کے روز ٹیلی فونک گفتگو کے دوران اس بات پر بھی زور دیا کہ ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی ایک راسخ اصول ہے جو سمجھوتے کے قابل نہیں ہے۔
علاوہ ازیں انھوں نے پائیدار امن کے حصول کے لیے ثالثی کی کوششوں کا مثبت جواب دینے کی ضرورت کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ دوحہ جنگ کا خاتمہ کرنے والے ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
تلقى معالي السيد بدر بن حمد البوسعيدي @badralbusaidi وزير الخارجية، اتصالًا هاتفيًا من معالي الدكتور سيد عباس عراقجي، وزير خارجية بالجمهورية الإسلامية الإيرانية
— وزارة الخارجية (@FMofOman) May 23, 2026
جرى خلال الاتصال تبادل وجهات النظر حول آخر المستجدات في المنطقة، ومسار التحركات والمفاوضات الدبلوماسية الجارية،… pic.twitter.com/DqRanRrkM9
واضح رہے کہ پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر تہران کا دورہ مکمل کر کے آج وطن واپس روانہ ہو گئے۔ تہران میں انہوں نے گذشتہ روز شام کو اور رات دیر گئے تک امن کے حصول کے طریقوں پر تبادلہ خیال کے لیے عراقچی سے ملاقات کی تھی۔
واضح رہے کہ تہران اب بھی اس بات پر اصرار کر رہا ہے کہ اعلیٰ افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل نہ کیا جائے اور وہ جنگ کے خاتمے کے بعد بھی "آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول اور انتظام" کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ امریکی پابندیوں کے خاتمے اور بیرون ملک اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی کا بھی خواہاں ہے۔
دوسری طرف امریکی موقف ایران کے اندر افزودہ یورینیم رکھنے یا ہرمز میں جہاز رانی پر کوئی بھی پابندی عائد کرنے کو مسترد کرنے پر برقرار ہے۔ یہ ایک ایسی اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا بھر کے تیل اور گیس کی ترسیئل کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
-
امریکی سینیٹر کا ٹرمپ سے ایران میں "مشن مکمل کرنے" کا مطالبہ
امریکی سینیٹ کی مسلح افواج کمیٹی کے چیئرمین، ریپبلکن سینیٹر راجر وِکر نے صدر ڈونلڈ ...
بين الاقوامى -
ایران کی طرف سے امن تجویز کا جائزہ، امریکہ پر 'ضرورت سے زیادہ مطالبات' کرنے کا الزام
امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس کا ایران پر دوبارہ حملے کرنے پر غور
مشرق وسطی -
ایران کے لیے امریکی پیغامات جن میں جنگ دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی بھی شامل
واشنگٹن اور تہران کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے حل تک پہنچنے ...
مشرق وسطی