مکمل اسرائیلی انخلا ایسا قومی مطالبہ ہے جس پر کوئی سمجھوتا ممکن نہیں : لبنانی صدر
جوزف عون نے واضح کیا کہ مذاکرات "ہتھیار ڈالنا نہیں ہوں گے بلکہ اپنی خود مختاری کی حفاظت کرنے کے لبنان کے حق کی توثیق ہوں گے".
لبنانی صدر جوزف عون نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک کے جنوب سے اسرائیل کا انخلا ایک ایسا قومی مطالبہ ہے جس پر "کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا"۔ انھوں نے واضح کیا کہ ریاست اسے ان مذاکرات کے ذریعے حاصل کرنے کے لیے کام کرے گی جن کے نئے دور کی ميزبانی اگلے ماہ کے شروع میں واشنگٹن کرے گا۔
تقریباً دو دہائیوں پر محیط قبضے کے بعد سن 2000 میں جنوبی لبنان سے اسرائیل کے انخلا کی 26 ویں سالگرہ کے موقع پر آج پیر کے روز جاری ایک بیان میں عون نے کہا کہ آزادی کی یاد گار اس سال ایسے وقت میں آئی ہے جب لبنان ایک تکلیف دہ حقیقت کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، کیونکہ اسرائیلی جارحیت رکی نہیں ہے اور جنوب کے عزیز دیہات اب بھی ایک نئے قبضے کے بوجھ تلے سسک رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ لبنان اس متبادل حقیقت کو قبول کرے گا اور نہ اس کے ساتھ کوئی سمجھوتا کرے گا اور اسرائیل کے مکمل انخلا کا راستہ ایک مستقل اور غیر سودے بازی والا قومی مطالبہ رہے گا جسے لبنانی ریاست مذاکرات کے آپشن کے ذریعے حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ مذاکرات کوئی سمجھوتا یا ہتھیار ڈالنا نہیں ہوں گے، بلکہ اپنی زمین اور خود مختاری کی حفاظت کرنے اور اپنی فوج اور جائز سکیورٹی فورسز کے ذریعے اپنی رٹ قائم کرنے کے لبنان کے خصوصی حق کی توثیق ہوں گے۔ یہ اس کے عوام کے اتحاد اور اپنی ریاست کے گرد اکٹھے ہونے کی بدولت ممکن ہو رہا ہے جس نے اس سمت میں ایسے تقدیر ساز فیصلے کیے ہیں جو مکمل خود مختاری کی بحالی کے لیے انتہائی اہم قومی ارادے کا اظہار کرتے ہیں۔
لبنانی صدر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جنوب کی آزادی ایک ایسا فرض ہے جسے ریاست اپنے بیٹوں کے تعاون سے ادا کرتی ہے کیونکہ یہ بالآخر ایک ایسا انتخاب ہے جس کا کوئی متبادل نہیں ہے۔
عون کے یہ مواقف حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نعیم قاسم کی جانب سے حکام پر کی جانے والی اس تنقید کے ایک دن بعد سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر یہ حکومت خود مختاری کو یقینی بنانے سے قاصر ہے تو اسے چلے جانا چاہیے۔ انہوں نے امریکہ پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ریاست کے معاملات چلا رہا ہے اور اس کی پالیسیوں کو کنٹرول کر رہا ہے۔
نعیم قاسم نے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات اور اپنے ہتھیار حوالے کرنے کو ایک بار پھر مسترد کر دیا۔
واشنگٹن کی جانب سے اپنے مالیاتی ادارے "القرض الحسن" کو بند کرنے کے مطالبے پر تبصرہ کرتے ہوئے، جس کی شاخیں 2023 سے کئی بار اسرائیلی حملوں کا نشانہ بن چکی ہیں، قاسم نے اپنے الفاظ میں یہ رائے ظاہر کی کہ عوام کا یہ حق ہے کہ وہ سڑکوں پر نکلیں، حکومت کا تختہ الٹ دیں اور اس اسرائیلی امریکی منصوبے کے خلاف اپنی پوری طاقت کے ساتھ مزاحمت کریں۔
قاسم کے ان مواقف پر امریکہ کی جانب سے فوری رد عمل سامنے آیا، جہاں اس کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے لبنانی حکومت کو گرانے کی حزب اللہ کی لاپروا کال کی مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ تنظیم سرگرمی سے لبنان کو دوبارہ بد امنی اور تباہی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ لبنانی حکومت کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے جبکہ وہ اپنی رٹ دوبارہ قائم کرنے اور اپنے عوام کے لیے ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے کام کر رہی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب لبنان اور اسرائیل 2 اور 3 جون کو امریکی سرپرستی میں براہِ راست مذاکرات کے چوتھے دور کے انعقاد کی تیاریاں کر رہے ہیں، جس سے پہلے مئی کے آخر میں دونوں فوجی وفود کا ایک اجلاس ہوگا۔
ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ تنظیم نے اسرائیل کے ساتھ دو جنگیں لڑیں، جن میں سے پہلی جنگ 2023 اور 2024 کے درمیان غزہ میں جنگ کے پس منظر میں ہوئی... اور دوسری جنگ 2 مارچ 2026 سے تہران کے خلاف امریکی اسرائیلی جنگ کے سائے میں شروع ہوئی۔
پہلی محاذ آرائی کے دوران تنظیم کو قیادت اور فوجی سطح پر شدید ضربیں لگی تھیں، جس کا اثر طاقت کے توازن کی تبدیلی کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اس کے نتیجے میں ایک ایسی انتظامیہ وجود میں آئی جس نے "اسلحہ صرف ریاست کے ہاتھ میں رکھنے" کے فریم ورک کے تحت تنظیم کو اس کے اسلحے سے محروم کرنے کی منظوری دی۔
دوسری جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی، حکومت نے تنظیم کی فوجی اور سکیورٹی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا اور جنگ بندی اور دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کے تعلقات کا تعین کرنے کے مقصد سے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات شروع کرنے کی منظوری دی۔