ایران میں قید ایک برطانوی جوڑے کی جاسوسی کے الزام میں سنائی گئی ،دس، دس سال قید کی سزا کے خلاف اپیل مسترد کر دی گئی ہے۔ یہ بات ان کے بیٹے نے منگل کو جاری بیان میں بتائی۔
کریگ فورمین اور ان کی اہلیہ لنڈسی فورمین کو 2025 کے آغاز میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا، جب وہ موٹر سائیکل پر دنیا بھر کے سفر پر تھے۔
ایرانی عدالت نے فروری میں دونوں کو جاسوسی کے الزام میں دس، دس سال قید کی سزا سنائی تھی، تاہم وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
ان کے بیٹے جو بینیٹ نے بیان میں کہا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ ان کے والدین کی سزا کے خلاف دائر اپیل مسترد کر دی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں کو اپنی اپیل کی سماعت میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی، جبکہ ان سے فارسی زبان میں تیار کردہ دستاویزات پر دستخط کرنے کا کہا گیا، جس سے انہوں نے انکار کر دیا کیونکہ وہ ان کا متن سمجھ نہیں سکتے تھے۔
جو بینیٹ کے مطابق اب یہ مقدمہ ایران کی سپریم کورٹ میں لے جایا گیا ہے، لیکن خاندان کو قانونی کارروائی، ممکنہ ٹائم فریم یا آئندہ اقدامات کے بارے میں واضح معلومات نہیں ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ عدالت کی جانب سے مقرر کیا گیا وکیل اب ان کے والدین کی نمائندگی نہیں کر رہا۔
جوڑے کے اہلِ خانہ نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کی رہائی کے لیے مزید مؤثر اقدامات کرے۔
جو بینیٹ نے کہا کہ انہوں نے پیر کے روز برطانوی دفترِ خارجہ کے حکام سے ملاقات کی، جو ''انتہائی مہربان'' تھے، لیکن ان کے بقول صرف ہمدردی کافی نہیں، بلکہ ایسے عملی اقدامات درکار ہیں، جو ان کے والدین کی رہائی کا سبب بن سکیں۔
برطانوی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ ہم اپیل کے فیصلے پر مایوس ہیں اور کریگ اور لنڈسی کی بحفاظت برطانیہ واپسی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس برطانوی جوڑے کی مسلسل حراست ''غیر منصفانہ اور تشویشناک'' ہے۔
ادھر خاندان کے مطابق دونوں میاں بیوی نے جیل میں بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔ کریگ کی بھوک ہڑتال کو 25 دن جبکہ لنڈسی کی بھوک ہڑتال کو 16 دن ہو چکے ہیں۔
خاندان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث ان کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، کیونکہ تہران کی اس جیل کے قریب دھماکے ہو چکے ہیں جہاں دونوں قید ہیں۔یہ جوڑا اپنے دوستوں، اہلِ خانہ اور برطانوی وزارتِ خارجہ کی تنبیہات کے باوجود ایران گیا تھا۔
برطانوی حکومت اپنے شہریوں کو کسی بھی مقصد کے لیے ایران کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیتی ہے۔کریگ اور لنڈسی ان متعدد مغربی شہریوں میں شامل ہیں ،جنہیں 1979 کے بعد ایران میں حراست میں لیا گیا۔
مغربی ممالک ایران پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ مبینہ طور پر رہن گیر سفارت کاری کی پالیسی اختیار کرتا ہے، جس کے ذریعے یورپی ممالک اور امریکہ سے سیاسی یا سفارتی رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایران ان الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔