لچک دار دفتری اوقات ریاض کو کاروباری مرکز کے طور پر مزید پُر کشش بناتے ہیں

یہ اقدام دارالحکومت کے لیے معاشی مواقع کو فروغ دیتا ہے جو ملک کی غیر تیل معیشت کا تقریباً 50 فی صد ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب نے ریاض کی تیز رفتار ترقی اور بڑھتی ہوئی آبادی کے پیشِ نظر ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے اور معیارِ زندگی کو بلند کرنے کے لیے "لچک دار دفتری اوقات" کا اقدام شروع کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد آمد و رفت کے اوقات کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے ٹریفک رش کے اوقات میں دباؤ کو کم کرنا ہے۔

یہ سہولت ریاض کے چھ اہم کاروباری مراکز (کافد، ڈیجیٹل سٹی، سفارت خانہ کالونی، لیسن ویلی، غرناطہ بزنس اور واجہہ روشن) میں 50 سے زائد اداروں میں نافذ کی گئی ہے۔ اس کے تحت ملازمین کو چار گھنٹے کے ونڈو میں کام پر آنے اور جانے کی آزادی ہو گی۔ سول سروس کے تحت کام کرنے والے ملازمین صبح 5:30 سے 9:30 بجے تک، جبکہ لیبر لاء کے تابع ملازمین صبح 7:00 سے 11:00 بجے کے درمیان اپنی سہولت کے مطابق وقت کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق یہ اقدام ریاض کو ایک عالمی کاروباری و سرمایہ کاری مرکز بنانے میں مدد گار ثابت ہوگا۔ یہ اقدام نہ صرف شہر کی نقل و حمل کی استعداد بڑھائے گا بلکہ روڈ انفراسٹرکچر پر بھاری سرمایہ کاری کیے بغیر ٹریفک کے نظام کو زیادہ پائیدار اور مؤثر بنائے گا۔ یہ کوششیں 2030 کے اہداف کے عین مطابق ہیں، جن کا مقصد ریاض کی آبادی کو 1.5 سے 2 کروڑ تک پہنچانا اور اسے دنیا کے دس بڑے معاشی شہروں میں شامل کرنا ہے۔

واضح رہے کہ یہ لچک دار اوقات ان انتظامی ملازمتوں کے لیے ہیں جن کے اوقات مقرر ہیں۔ تاہم صحت، تعلیم، اور فیلڈ ورک جیسے شعبے، جہاں مسلسل آپریشنز اور خدمات کی فراہمی ضروری ہے، اس اقدام سے مستثنیٰ ہوں گے۔ یہ منصوبہ ریاض کے روئل کمیشن نے وزارتِ انسانی وسائل کے اشتراک سے شروع کیا ہے، جو شہر کے ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور ٹریفک مینجمنٹ کو بہتر بنانے کے لیے جاری مربوط کوششوں کا حصہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جدید طریقہ کار شہروں کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا، کیونکہ اب کسی شہر کی کامیابی کا انحصار محض سڑکوں کی لمبائی پر نہیں، بلکہ وسائل اور خدمات کے موثر انتظام پر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں