اسرائیل اور لبنان کے درمیان مشروط جنگ بندی پر اتفاق کے بعد اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر لبنانی شہریوں کو جنوبی علاقوں میں اپنے دیہات اور قصبوں کی جانب جانے سے خبردار کیا ہے۔
#عاجل ‼️انذار عاجل إلى سكان جنوب لبنان!
— افيخاي ادرعي (@AvichayAdraee) June 4, 2026
🔸القتال في جنوب لبنان مستمر حيث يواصل جيش الدفاع استهداف منشآت وبنى حزب الله الموجودة في قراكم وبالقرب منها. جيش الدفاع لا ينوي المساس بكم.
🔸حرصًا على سلامتكم امتنعوا عن التوجه جنوبي نهر الزهراني حتى إشعار آخر!
🔸كل من يتوجه جنوبًا… pic.twitter.com/u2EAAv7FxU
اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائے ادرعی نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا کہ جنوبی لبنان میں لڑائی ابھی جاری ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی افواج حزب اللہ کی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہیں۔ادرعی نے شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ دریائے الزہرانی کے جنوب میں واقع علاقوں کا رخ نہ کریں اور کہا کہ مزید اطلاع تک ان علاقوں میں جانے سے گریز کیا جائے۔
ان کے بقول جو بھی جنوب کی طرف جائے گا، وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈالے گا۔یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنانی قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق آج جنوبی لبنان میں زفتا۔نميریہ چوک کے قریب ایک شہری گاڑی پر اسرائیلی حملے میں تین افراد زخمی ہو گئے۔
اسی دوران اسرائیلی ڈرون طیاروں کی بیروت اور اس کے نواحی علاقوں کے اوپر پروازیں بھی ریکارڈ کی گئی ہیں۔
سرخ لکیر
اسرائیلی انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور چند گھنٹے قبل ہی اختتام پذیر ہوا۔
یہ مذاکرات 2 اور 3 جون کو منعقد ہوئے تھے۔مذاکرات کے بعد اعلان کیا گیا کہ ایک مشروط جنگ بندی پر عمل درآمد کیا جائے گا، جس کے تحت حزب اللہ شمالی اسرائیل پر حملے بند کرے گی اور اپنے جنگجوؤں کو دریائے لیتانی کے جنوب سے واپس ہٹائے گی۔
اس کے بدلے میں لبنانی مسلح افواج جنوبی لبنان کے بعض علاقوں میں ابتدائی طور پر ''آزمائشی مرحلے'' کے تحت مکمل کنٹرول سنبھالیں گی۔ اگر یہ انتظام کامیاب رہا تو بعد ازاں اسرائیلی افواج ان علاقوں سے انخلا کریں گی۔
واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے آج اس سے قبل کہا تھا کہ اسرائیلی فوج اس مقام سے پیچھے نہیں ہٹے گی جسے انہوں نے '' پیلی لائن'' (Yellow Line) قرار دیا۔
ان کا اشارہ سرحدی علاقے کے ان درجنوں قصبوں اور دیہات کی جانب تھا ،جہاں اسرائیلی افواج گزشتہ چند ماہ کے دوران داخل ہوئی تھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ لبنان کے ساتھ طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت اگر حزب اللہ اسرائیلی آبادیوں پر حملہ کرتی ہے تو بیروت کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
کاٹز نے زور دیا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ان کے بقول اس مرحلے میں اسرائیلی فوج فائرنگ اور زمینی کارروائیاں جاری رکھے گی، پیلی لائن تک قائم سکیورٹی زون میں موجود رہے گی، جس میں الشقیف کا علاقہ بھی شامل ہے۔ فوج شہریوں کی واپسی کو روکے گی اور حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے کی کارروائیاں جاری رکھے گی۔
گزشتہ عرصے کے دوران اسرائیلی افواج جنوبی لبنان پر مسلسل اور شدید فضائی حملے کرتی رہی ہیں، جبکہ اسرائیلی حکومت نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے (الضاحیہ الجنوبیۃ) کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی تھیں۔
دوسری جانب حزب اللہ نے جنوبی لبنان کے دیہات میں موجود اسرائیلی فوجی اجتماعات اور شمالی اسرائیل میں بعض مقامات کو نشانہ بنا کر جواب دیا۔