کاٹز نے لبنان میں ''اسرائیلی شرائط ''کو سراہا، بن گویر کی تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے امریکی سرپرستی میں لبنان کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پیش رفت ان شرائط کا نتیجہ ہے ،جو اسرائیل نے زمینی حقائق کی بنیاد پر لبنان میں نافذ کیں۔

جمعرات کے روز جاری بیان میں کاٹس نے کہا کہ یہ معاہدہ شمالی اسرائیل کی سکیورٹی کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، جو ان کے بقول گزشتہ 50 سال میں پہلی بار ممکن ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ لبنان کے ساتھ طے پانے والے معاہدے میں حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے کا واضح اعلان شامل ہے، جبکہ اس میں خطے میں ایران کے کردار کی مذمت بھی کی گئی ہے۔

کاٹز کے مطابق جنگ بندی اس شرط سے مشروط ہے کہ حزب اللہ کو دریائے لیطانی کے جنوب سے پہلے ہی نکالا جائے۔

اسرائیلی فوج کی جنوبی لبنان کے ''سکیورٹی زون ''میں موجودگی

اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے زور دے کر کہا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اس نام نہاد "سکیورٹی زون" میں موجود رہے گی، جو ان کے مطابق "پیلی لکیر" (Yellow Line) تک پھیلا ہوا ہے۔

ان کے بیان کے مطابق یہ جنگ بندی دراصل ایک مشروط معاہدہ ہے، جس کے تحت خطے میں ایک غیر مسلح علاقہ قائم کیا جا رہا ہے، جبکہ اسرائیلی فوج اس دوران زمینی کارروائیاں اور فائرنگ جاری رکھے گی۔

کاٹز نے کہا کہ فوج اس مرحلے میں بھی لبنان کے اندر سکیورٹی زون میں موجود رہے گی، جس میں الشقیف کا علاقہ بھی شامل ہے، جبکہ شہریوں کی واپسی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

کاٹز اور نیتن یاہو
کاٹز اور نیتن یاہو

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے کی کارروائیاں جاری رہیں گی اور اسرائیل کو امریکی حمایت کے ساتھ یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ بیروت پر حملے کر سکے اگر اسرائیلی علاقوں پر کوئی فائرنگ کی گئی۔

کاٹز کے مطابق یہ سب کچھ، ان کے بقول وہ حقیقت ہے جو اسرائیل نے لبنان میں قائم کی ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے اپوزیشن ارکان سے مطالبہ کیا کہ وہ اس پیش رفت پر معذرت کریں اور اسے ایک بڑی کامیابی تسلیم کریں۔

انہوں نے کہا کہ اس کا کریڈٹ سیاسی قیادت، خاص طور پر وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کو جاتا ہے، جنہوں نے جرات مندانہ فیصلے کیے، جبکہ اس میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں اور فوجیوں کی بہادری بھی شامل ہے۔

سنگین غلطی

اس کے برعکس اسرائیل کے وزیرِ قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے لبنان کے ساتھ جنگ بندی کو ایک ''بڑی غلطی'' قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ان مشیروں کی خواہش ہے ،جو وزیرِاعظم کو غلط فیصلوں کی طرف لے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لبنان دراصل حزب اللہ کا شراکت دار ہے اور ان کے بقول، وہاں کی حکومت میں ایسے وزراء موجود ہیں جو حزب اللہ کی نمائندگی کرتے ہیں، جبکہ حزب اللہ کے ارکان کے قریبی رشتہ دار لبنانی فوج میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ایتامار بن گویر نے اپنے ایکس (X) اکاؤنٹ پر لکھا کہ "کچھ ایسے مواقع آتے ہیں، جب امریکا کے صدر کو بھی نہیں کہنا ضروری ہوتا ہے، اور اگر ایسا نہ کیا جائے تو حزب اللہ آئندہ زیادہ مضبوط اور خطرناک ہو سکتا ہے۔"

اسرائیل کے وزیرِ قومی سلامتی ایتمار بن گویر
اسرائیل کے وزیرِ قومی سلامتی ایتمار بن گویر

انہوں نے مطالبہ کیا کہ جنگ بندی کے فیصلے پر کابینہ میں باقاعدہ بحث کی جائے اور اس پر ووٹنگ کرائی جائے۔

ادھر جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی اسرائیلی ڈرون طیاروں نے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر حملے کیے، جن کی تصدیق لبنانی قومی خبر رساں ایجنسی نے بھی کی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ڈرون حملوں میں جنوبی علاقوں کی تین مقامات پر سڑکوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سے ایک حملہ ایک گاڑی پر بھی ہوا۔

یاد رہے کہ لبنان اور اسرائیل نے گزشتہ روز ایک مشترکہ بیان میں جنگ بندی اور "تجرباتی سکیورٹی زونز" کے قیام پر اتفاق کیا تھا، جو لبنانی فوج کے کنٹرول میں ہوں گے۔

یہ معاہدہ واشنگٹن میں دو روزہ مذاکرات کے بعد سامنے آیا تھا۔بیان کے مطابق دونوں فریق 22 جون سے شروع ہونے والے ہفتے میں سیاسی اور سکیورٹی امور پر مزید مذاکرات کریں گے تاکہ ایک جامع معاہدے تک پہنچا جا سکے۔

یہ بھی واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ لبنان سے متعلق مذاکرات کو ایران کے معاملے سے الگ رکھنا چاہتے ہیں، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ دونوں معاملات آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نتن یاہو نے کہا ہے کہ ٹرمپ بھی اس بات پر متفق ہیں کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جائے اور لبنان کو اسلحے سے پاک کیا جائے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان امن کی راہ ہموار ہو سکے۔

یاد رہے کہ لبنان میں جنگ دو مارچ کو اس وقت شروع ہوئی جب حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر راکٹ فائر کیے، جس کے جواب میں اسرائیل نے ایران کی اعلیٰ قیادت کے قتل کے بعد وسیع فضائی اور زمینی کارروائیاں شروع کیں۔لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں اب تک 3516 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں