مقبوضہ مغربی کنارے میں ناجائز یہودی بستیوں کے اسرائیلی منصوبے، تیز تر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی حکومت کے انتہائی زیادہ انتہا پسند وزیر خزانہ بذالیل سموٹریچ نے بدھ کے روز مقبوضہ مغربی کنارے میں ناجائز یہودی بستیوں کی ایک نئی کھیپ کا اعلان کیا ہے۔

یہ منصوبہ بنیادی طور پر تین مختلف یہودی بستیوں میں مغربی ملکوں اور امریکہ سے لا کر بسانے کے سلسلے میں یہودی خاندانوں کے لیے 2000 نئے گھروں کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ ان 2000 نئے گھروں کی تعمیر سے تین یہودی بستیوں میں توسیع ممکن ہو سکے گی۔

اسرائیلی ناجائز یہودی بستیوں کو بہت سے ممالک ہی نہیں اقوام متحدہ اور بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والی عدالتیں بھی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں پر مبنی قرار دیتی ہیں۔ مگر اسرائیل اپنی مکمل ڈھٹائی کے ساتھ ان ناجائز یہودی بستیوں کی تعمیر و توسیع کو آگے بڑھاتا ہی چلا جا رہا ہے۔

سموٹریچ کو بطور وزیر خزانہ اسرائیلی سول ایڈمنسٹریشن کے مختلف شعبوں کا بھی اختیار دیا گیا ہے۔ سموٹریچ نے کہا ہے کہ منصوبہ بندی کمیٹی نے 2162 یہودی خاندانوں کے لیے نئے گھر تعمیر کرنے کے منصوبے کی منظوری دی ہے۔

اسرائیلی وزیر خزانہ کے مطابق ان میں 1006 نئے گھر یروشلم کے نزدیک بنائی جانے والی ایک نئی یہودی بستی میں تعمیر کیے جائیں گے، 922 یہودیوں کے لیے گھر نابلس شہر کے نزدیک بنائے جائیں گے جبکہ 234 گھر یہودیوں کو ہیبرون کے نزدیک بنا کر دیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا ہم نے تعمیرات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اگرچہ برطانیہ ، فرانس اور کئی دیگر ملکوں نے ان یہودی آباد کاروں کو پر تشدد کارروائیوں کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

بذالیل سموٹریچ نے کہا یہودی آبادکاروں اور یہودی بستیوں پر پابندی کے باوجود اسرائیلی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ ایک اور جاری کردہ بیان میں سموٹریچ نے کہا زمین پر ہماری گرفت مضبوط ہوگی، اسرائیلی سلامتی کو تقویت ملے گی اور عرب دہشت گرد ریاست کے قیام کو روکیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں