کویت: ایرانی میزائل حملے کے دوران 13 میزائلوں اور 17 ڈرونز کو روک دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

کویت کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ بدھ کی صبح اس نے 30 بیلیسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو کامیابی سے روکا ہے۔ یہ سنگین حملہ ایرانی جارحیت کا نتیجہ تھا جو اس نے کویت کے خلاف کچھ عرصے سے جاری رکھی ہوئی ہے۔

اس سے قبل سامنے آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا تھا ایرانی میزائل حملے سے ایک شہری ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والے کی شناخت بھارتی شہری کے طور پر کی گئی ہے۔

ایران نے اپنے اس حملے میں کویت کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے علاوہ بعض دیگر سہولتوں کو بی نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ ایرانی حملے کے بعد بین الاقوامی ایئرپورٹ کو عارضی طور پر بند کیا جا چکا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایرانی حملے سے ایک سفارتی مشن بھی نشانہ بنا ہے۔ تاہم کویت کی وزارت خارجہ نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ یہ کس ملک کا سفارتی مشن تھا جو حملے سے متاثر ہوا ہے۔

دوسری جانب کویتی وزارت دفاع کے ترجمان سعود عبدالعزیز الاتوان نے کہا ہے کہ مسلح افواج نے دشمن کی طرف سے داغے گئے 13 بیلیسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی روک دیا۔ یہ میزائل مبینہ طور پر مختلف رہائشی علاقوں میں روکے گئے تھے۔ جس کے نتیجے میں میزائلوں کا ملبہ بعض جگہوں پر گر گیا۔

ترجمان کے مطابق کویتی فوج نے 17 ڈرونز سے کیے گئے حملوں کو بھی ناکام بنایا ہے۔ یہ ڈرون طیارے بھی ایران ہی کی طرف سے حملے کے لیے بھیجے گئے تھے۔

بدھ کے روز بعد ازاں کویت نے ایرانی سفارتی عملے کو اگلے 24 گھنٹوں میں کویت سے نکل جانے کے لیے کہہ دیا ہے۔

کویتی نائب وزیر خارجہ حماد سلیمان المشان نے ایرانی ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کیا اور حامد حمید یعقوبی کو ایک احتجاجی مراسلہ دیا گیا۔ یہ احتجاجی مراسلہ ایران کے مسلسل جاری حملوں کے خلاف تھا۔

کویت نے ایران کے مسلسل حملوں کے بعد ایرانی سفارتی عملے کی تعداد کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ بھی غور کیا گیا ہے کہ دو سفارتکاروں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر کویت سے 24 گھنٹوں میں نکال دیا جائے۔

کویت نے یہ بھی کئی بار کہا ہے کہ اس کی فضائیں یا سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں کی جا رہی ہیں۔ جبکہ ایران کا دعویٰ ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف حملوں کے لیے کویت کی سرزمین اور فضاؤں کو استعمال کر رہا ہے۔

ایران کی طرف سے کویت پر ان حملوں کے باعث کویت ایران کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کشیدگی میں پچھلے چند ہفتوں میں جنگ بندی کی وجہ سے کمی آگئی تھی۔ کیونکہ 8 اپریل سے امریکہ و ایران کے درمیان جنگ بندی شروع ہوگئی تھی۔

یاد رہے امریکہ و اسرائیل نے مشترکہ طور پر 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی۔ ایران اس سے پہلے ہی خبردار کر چکا تھا کہ یہ جنگ محدود نہ رہے گی۔ بلکہ جن ملکوں میں امریکی فوجی اڈے اور دیگر سہولیات ایران کے خلاف استعمال ہوں گی، ایران ان پر بھی حملے کرے گا۔

کویت پر ایران کے تازہ حملے میں ایک شخص ہلاک ، بعض اطلاعات کے مطابق 63 زخمی ہوئے ہیں۔

کویتی ایئرپورٹ پر عارضی طور پر جہازوں کی آمد و رفت روک دی گئی ہے۔ تاہم کویتی حکام کا کہنا ہے کہ وہ نئے سرے سے پروازوں کا شیڈول ترتیب دے رہی ہے اور جلد مسافروں کی نقل و حمل کا آغاز کر دیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں