امریکی سینٹ کام نے اس امر کی تردید کی ہے کہ ایرانی میزائل حملے کے ذریعے دو امریکی ڈسٹرائرز کو ان کی خلیج عمان میں موجودگی کے دوران وارننگ دی گئی ہے۔ تاکہ ان انتباہی میزائلوں کا فائدہ اٹھا کر علاقے سے واپس چلے جائیں۔ امریکی سینٹ کام نے جمعہ کے روز اس سلسلے میں عالمی سطح پر پھیلی خبروں کی تردید کر دی ہے۔
اس سے قبل ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے 'ارنا' نے اطلاع دی تھی کہ ایران کے انتباہی میزائل حملے کے بعد امریکی ڈسٹرائرز خلیج عمان کے علاقے سے نکل گئے۔ تاہم امریکی فوج کی سنٹرل کمان نے اسے بے بنیاد دعوٰی قرار دیا ہے۔
سینٹ کام کی طرف سے جاری کردہ تردیدی بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی بحریہ کا آپریشن جہاز رانی ایرانی 'مس کنڈکٹ' اور خوف پھیلانے کی کوششوں کو روکنے کے لیے خلیج عمان آئے تھے۔ نیز تیل بردار کشتیوں کو دہشت گردوں کی طرف سے ہائی جیک کرنے کی کوشش کا جواب دینے کے لیے تھا۔
اس سلسلے میں امریکی فوج نے فوری طور پر تردید کرنے کا اہتمام کیا ہے کہ ایران کی طرف سے امریکہ کے اہم بحری اثاثوں کے خلاف واقعہ ہوا ہے۔ سینٹ کام نے کہا ' ایسا بالکل نہیں ہوا کہ ایران کی جانب سے امریکی بحری جہازوں پر کوئی حملہ کیا گیا ہو۔ اگر کیا جاتا تو جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی کا ارتکاب ہوتا۔'
بیان کے مطابق امریکی افواج علاقے کے پانیوں میں آزادانہ اپنے آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جبکہ امریکی بحریہ نے ایرانی بندر گاہوں کا محاصرہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
خیال رہے امریکہ اور ایران کے درمیان 8 اپریل سے جاری جنگ بندی کے خلاف تازہ ترین واقعہ تھا جس کا ایران نے دعویٰ کیا تھا۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف اپنی مشترکہ جنگ کا آغاز 28 فروری کو کیا تھا۔ اگرچہ دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست مذاکرات کا ایک دور بھی ہو چکا ہے اور مزید پیغام رسانی بھی جاری ہے مگر ابھی تک کوئی باقاعدہ معاہدہ نہیں ہو سکا ہے۔
امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کے روز کہا تھا امریکہ ایران کے خلاف اب کوئی حملے جاری نہیں رکھے ہوئے ہے۔ بلکہ ایران کے خلاف امریکی آپریشن ایپک فیوری ختم ہو گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا امریکی فوج نے ایران کی ایسی تباہی کی ہے کہ اب ایران کے پاس ایئر فورس بچی ہے نہ ایران کی روایتی بحریہ اب باقی رہی ہے۔ جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
بعد ازاں امریکہ نے بھی آبنائے ہرمز کے گرد و پیش میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کردی، جو ابھی تک جاری ہے۔ اس دوہری ناکہ بندی کی وجہ سے دنیا بھر کے لیے تیل کی ترسیل متاثر ہوگئی ہے۔