ایران کی عدلیہ نے اعلان کیا کہ جنوری میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں سے متعلق الزامات کے تحت دو افراد کو اتوار کے روز پھانسی دے دی گئی۔
عدلیہ نے کہا کہ دو افراد عرفان اسفندیاری اور گول محمد محمدی کو مرکزی شہر اصفہان میں "پولیس اہلکاروں کو رسی سے سڑک کے نشان سے باندھنے، پتھروں سے زخمی کرنے، ان پر پٹرول چھڑکنے اور آگ لگانے" کا مجرم پایا گیا تھا۔
فردِ جرم میں کہا گیا کہ دونوں افراد نے "قتل کا منظر فلمایا اور فوٹیج ٹیلی ویژن چینلز کو بیرونِ ملک منتقل کی"۔
بیان میں ان کی گرفتاری یا مقدمے کی تاریخوں کی وضاحت نہیں کی گئی اور نہ ہی ان کی عمریں بتائی گئیں۔
دسمبر کے آخر میں شروع ہونے والے ملک گیر مظاہرے آٹھ اور نو جنوری کو اپنے عروج پر پہنچ گئے تھے۔
ایرانی حکام نے 3,000 سے زیادہ ہلاکتوں کی اطلاع دی اور امریکہ اور اسرائیل کی منظم کردہ "دہشت گرد کارروائیوں" کو تشدد کی وجہ قرار دیا جبکہ غیر ملکی این جی اوز نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کی۔
تب سے ملک میں ایسی گرفتاریوں اور پھانسیوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے جو تنازعات اور مظاہروں سے متعلق ہیں۔
ایران ہیومن رائٹس اینڈ ٹوگیدر اگینسٹ دی ڈیتھ پینلٹی (ای سی پی ایم) کے مطابق 2025 میں حکام نے کم از کم 1,639 افراد کو پھانسی دی جو 1989 کے بعد کسی بھی سال میں پھانسیوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
-
امریکہ کی ایران پر بمباری جاری، تہران کا کویت پر دوبارہ حملہ
کویتی فضائی دفاع کا ایرانی میزائل اور ڈرون مار گرانے کا دعویٰ
مشرق وسطی -
ٹرمپ کا ایرانی حملے میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر سوگ لیکن مشن کو انتہائی اہم قرار دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز ایک انٹرویو میں ایران کے خلاف نئی فوجی ...
بين الاقوامى -
ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے سے روک دیا:رپورٹس میں انکشاف
ایک اسرائیلی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ تل ابیب ایران کی جانب سے ممکنہ حملوں کے ...
بين الاقوامى