اسرائیلی آبادکاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک گاؤں میں راتوں رات ایک مسجد کو آگ لگا دی، ایک فلسطینی اہلکار نے اتوار کے روز بتایا جبکہ اے ایف پی کے ایک صحافی نے عمارت کا داخلی دروازہ جھلسا ہوا اور اس کی دیواروں پر عبرانی گرافٹی بنی ہوئی دیکھی۔
گاؤں کی کونسل کے سربراہ محمد ربیع نے اے ایف پی کو بتایا کہ دو درجن سے زائد اور بعض نقاب پوش آباد کاروں نے رات کے وقت التوانی گاؤں میں التقویٰ مسجد پر حملہ کر کے نذرِ آتش کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ آباد کاروں نے دو گھروں اور ایک ڈیری فیکٹری کو بھی آگ لگا دی اور مسجد کی دیواروں پر عبرانی گرافٹی کا چھڑکاؤ کر دیا۔ گاؤں کے لوگوں کے گھروں سے نکل آنے کے بعد آبادکار فرار ہو گئے اور آگ کے مزید پھیلنے سے پہلے ہی مقامی رضاکار اسے بجھانے میں کامیاب رہے۔
اے ایف پی کی تصاویر میں ایک بچے اور ایک بزرگ کو مسجد کے سوختہ دروازے اور کھڑکیوں کا معائنہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جہاں نماز کی صفوں کا کچھ حصہ بھی جل گیا تھا۔
ربیع نے کہا کہ مسافر یطا کمیونٹی کی خواتین کے زیرِ انتظام چلنے والی ڈیری فیکٹری کو بہت نقصان پہنچا۔
انہوں نے کہا، "ہم خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ یہ حملہ جانی نقصان والے سانحہ میں تبدیل نہیں ہو گیا۔"
اسرائیلی پولیس نے کہا کہ "ایک گاڑی کو آگ لگانے سمیت جائے وقوعہ کو نقصان پہنچانے، عبادت گاہ کے دروازے کو نقصان پہنچانے اور دیواروں پر گریفٹی سے پینٹ کرنے والے مشتبہ افراد کی اطلاع ملنے کے بعد" کل رات گاؤں میں افسران کو تعینات کر دیا گیا تھا۔
نیز کہا، "واقعہ کی وجہ بننے والے حالات کی تحقیقات بدستور جاری ہیں۔"
فلسطینی کارکن اسامہ المخامرہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ "آباد کاروں کا حملہ اسرائیلی فوج کی مکمل نگرانی میں ہوا" اور مشاہدہ کیا کہ مسجد کے قریب ایک اسرائیلی فوجی پہرہ برجی موجود ہے۔
تاہم ربیع نے بتایا کہ اسرائیلی فوج، پولیس اور فائر سروس کے اہلکار حملے کے تقریباً آدھے گھنٹے بعد گاؤں پہنچے اور مسجد اور دیگر املاک کو پہنچنے والے نقصان کا معائنہ کیا۔
فلسطینی وزارتِ مذہبی امور نے اس حملے کی مذمت کی۔
ایک بیان میں وزارت نے آتش زنی کو "ایک مکمل دہشت گرد کارروائی" قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ اسرائیل کی "انتہا پسند قابض حکومت" آبادکاروں کے تشدد کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جو فلسطینیوں کو مسافر یطا سے بے گھر کرنے اور تنازعہ کو "مذہبی جنگ" میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔
ایک حالیہ رپورٹ میں اقوامِ متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور (اوچا) نے کہا، مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کا تشدد "بے مثال" سطح پر پہنچ گیا ہے اور اوسطاً روزانہ چھے حملے ہوتے ہیں جن کے نتیجے میں جانی یا مالی نقصان ہوتا ہے۔
-
جنوبی لبنان میں حزب اللہ ٹھکانے پر اسرائیلی بمباری
اسرائیلی فوج نے کہا ہے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ایک خفیہ سیل کو بمباری کا نشانہ ...
مشرق وسطی -
اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی امیدلبنانی صدر جوزف عون کی وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے ملاقات
لبنانی صدر جوزف عون اس ہفتے وائٹ ہاؤس کا اپنا پہلا دورہ کر رہے ہیں۔ اس دورے کا ...
بين الاقوامى -
ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے سے روک دیا:رپورٹس میں انکشاف
ایک اسرائیلی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ تل ابیب ایران کی جانب سے ممکنہ حملوں کے ...
بين الاقوامى