پاکستانی طالبان نے جنگ بندی کے لیے شرائط پیش کردیں

حکومت سے طالبان جنگجوؤں کی زیرحراست ہلاکتیں ختم کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے نئی شرائط پیش کی ہیں اور کہا ہے کہ اس کے جنگجوؤں کی ہلاکتیں اور ان کی لاشیں ٹھکانے لگانے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔

ٹی ٹی پی کے ترجمان شاہداللہ شاہد نے بدھ کو کسی نامعلوم مقام سے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہمارے جنگجوؤں کو نشانہ بنایا جارہا ہے،انھیں گرفتار کیا جارہا ہے اور جعلی پولیس مقابلوں میں ہلاک کیا جارہا ہے۔حکومت کی مذاکراتی ٹیم ہماری ٹیم کو یہ سلسلہ فوری طور پر ختم کرنے کی یقین دہانی کرائے''۔

ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ''حکومت نے کراچی اور ملک کے دوسرے علاقوں میں مذاکرات کے آغاز کے بعد سے ''آپریشن روٹ ؛آؤٹ'' کے نام سے خفیہ کارروائی کے تحت ساٹھ سے زیادہ طالبان کو ہلاک کردیا ہے''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''اگر حکومت طالبان کی کمیٹی کو مطالبات پورا کرنے کی یقین دہانی کرادیتی ہے تو پھر جنگ بندی ممکن ہے''۔طالبان کے ترجمان نے مہمند ایجنسی میں تئیس پاکستانی فوجیوں کو قتل کرنے کا یہ جواز پیش کیا ہے کہ حکومتی اور طالبان کی کمیٹیوں کے درمیان بات چیت کے دوران بھی جنگجوؤں کی ہلاکتوں کے ردعمل میں ایسا کیا گیا ہے۔

ان فوجیوں کو 2010ء میں مہمند ایجنسی میں شنگری چیک پوسٹ سے اغوا کیا گیا تھا اور قریباً چار سال کے بعد طالبان جنگجوؤں کی زیرحراست ہلاکتوں کے ردعمل میں انھیں قتل کردیا گیا ہے۔

طالبان کے ترجمان کی جانب سے جنگ بندی کے لیے ان نئی شرائط سے چندے قبل ہی ان کی مذاکراتی کمیٹی کے رابطہ کار مولانا یوسف شاہ نے بات چیت میں تعطل دور کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ لوگوں کو مذاکراتی عمل سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔قبل ازیں بھی تعطل تھا لیکن ہم اس کو بالغ نظری سے دور کرنے میں کامیاب رہے تھے۔مولانا یوسف شاہ نے پشاور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''مولانا سمیع الحق طالبان کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہیں۔ہم کسی بھی قیمت پر مذاکرات کو بحال کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے''۔

پاکستان کی حکومتی کمیٹی نے مہمند ایجنسی میں طالبان جنگجوؤں کے ہاتھوں فوجیوں کے بہیمانہ قتل اور ملک کے دوسرے علاقوں خاص طور پر سب سے بڑے شہر کراچی میں دہشت گردی کی حالیہ کارروائیوں کے بعد طالبان جنگجوؤں سے مذاکرات کا عمل آگے بڑھانے سے معذرت کر لی تھی۔

کمیٹی نے منگل کو وزیراعظم میاں نوازشریف کے ساتھ اجلاس میں شرکت کے بعد ایک بیان میں کہا تھا کہ تیرہ روزہ مذاکراتی عمل کے دوران بھی تشدد کے متعدد واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں دسیوں افراد مارے گئے ہیں۔ان واقعات کے بعد کمیٹی کے ارکان نے متفقہ طور پر طالبان کی کمیٹی سے مذاکرات جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس کے نزدیک یہ ایک لاحاصل مشق ہے۔کمیٹی کا کہنا تھا کہ مہمند ایجنسی کے واقعے کے بعد صورت حال مکمل طور پر تبدیل ہوگئی ہے اور طالبان کی جانب سے تشدد کی تمام سرگرمیوں کے خاتمے کے بغیر امن بات چیت کو جاری رکھنا اب ممکن نہیں رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں