پولیو قطرے پیئے بغیر پاکستان سے باہر سفر ناممکن

ڈبلیو ایچ او کی عائد کردہ سفری پابندیوں کا اطلاق آج سے شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

جسمانی اعضاء کی معذوری پر منتج ہونے والی خطرناک بیماری پولیو کے خاتمے میں ناکامی کے بعد پاکستان پر عالمی ادارہ صحت کی جانب سے عائد کردہ سفری پابندیوں کا اطلاق یکم جون سے شروع ہو گیا ہے۔

وزارت صحت اور عالمی ادارہ صحت کے اعلامیہ کے مطابق یکم جون سے پاکستان سے بیرون ملک سفر کرنے والے تمام مسافروں کو پولیو ویکسینیشن کا سرٹیفیکیٹ پیش کرنا لازمی ہوگا۔ سرٹیفیکیٹ پیش کرنے کی شرط کا اطلاق بچوں، بالغوں، حاملہ خواتین سمیت تمام مسافروں پر ہو گا۔ وزارتِ صحت کے مطابق ویکسینیشن حاملہ خواتین کے لیے مضرِ صحت نہیں۔

پاکستان میں ایک ماہ سے زیادہ قیام کرنے والے غیر ملکی شہریوں پر بھی اس شرط کا اطلاق ہو گا۔

یاد رہے کہ عالمی ادارہ صحت نے پانچ مئی کو پاکستان، کیمرون اور شام کو دنیا میں پولیو کے پھیلاؤ کا سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے ان ملکوں سے مرض کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔ جس کے بعد پاکستان نے سفری پابندیوں پر عمل درآمد کا لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے دو ہفتے کی مہلت مانگی تھی۔

پولیو کے قطرے پینےکے بعد مسافروں کو ایک سرٹیفیکیٹ جاری کیا جائے گا جو دوسرے ائیر پورٹ پر امیگریشن کا عملہ چیک کرے گا۔

ہوائی اڈوں کے علاوہ بلوچستان کے 47 ٹرانزٹ پوائنٹس اور انٹرنیشنل بارڈرز چمن اور تفتان میں بھی پولیو کاؤنٹر بوتھ قائم کئے گئے ہیں ۔

ادھر پاکستان کے کرکٹ کھلاڑیوں کو بھی لاہور میں جاری ایک تربیتی کیمپ میں پولیو کے قطرے پلائے گئے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان نے بتایا کہ قطرے پلانے کا مقصد یونیسف کی پولیو مہم کی حمایت اور اس وبائی مرض سے متعلق شعور اجاگر کرنا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں